سرکاری دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک تیار کیا ہے جس کا مقصد نہ صرف ٹیکس وصولی کو بہتر بنانا ہے بلکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں شفافیت اور ریکارڈنگ کے نظام کو مضبوط کرنا بھی ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری  میں بتایا گیا ہے کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو اور کھاد کی صنعتوں میں پیداوار سے باخبر رہنے کا نظام پہلے ہی مکمل طور پر فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ اب اس نظام کو توسیع دیتے ہوئے ٹیکسٹائل اور مشروبات کے شعبوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ اس توسیع کا ہدف اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 یہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مشاورت کے تناظر میں بھی اہم ہیں، جہاں پاکستان ٹیکس اصلاحات اور ریونیو بڑھانے کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر رہا ہے، اصلاحاتی پیکیج کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری میں کمی اور محصولات کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

دوسری جانب ریٹیل سیکٹر کے لیے ایک نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اسکیم کے تحت وہ تاجر جن کی سالانہ فروخت 200 ملین روپے تک ہے، اپنے ٹرن اوور پر ایک فیصد فلیٹ ٹیکس ادا کریں گے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 30 لاکھ تاجروں کا ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے، جبکہ مزید رجسٹریشن مہمات کے ذریعے اس ڈیٹا بیس کو وسعت دی جا رہی ہے۔

ایف بی آر نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انوائسنگ کو تمام سیلز ٹیکس رجسٹرڈ کاروباروں کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس نظام کی مکمل تعمیل کے لیے 31 جولائی 2026 کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مارچ 2026 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک تہائی اہل ٹیکس دہندگان نے ڈیجیٹل انوائسز کا اجرا شروع کر دیا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ ڈیڈ لائن تک ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کو اپنانے میں ناکام رہنے والے کاروباروں کے خلاف سخت مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

ایف بی آر نے ملک بھر میں ٹیکس نفاذ اور آڈٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھرتیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ مارچ 2026 تک 431 نئے آڈیٹرز کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ جون 2026 سے پہلے مزید 396 آڈیٹرز کی بھرتی کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

مزید پڑھیں: انٹیل کور آئی نائن 14900 کے ایف نے دنیا کی تیز ترین سی پی یو رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

 ان اقدامات سے نہ صرف ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ ادارے کی مجموعی نگرانی اور آڈٹ صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

ادارے نے ایک نیا رسک مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے کارپوریٹ اور غیر کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی مالی سرگرمیوں کی جدید انداز میں نگرانی کی جائے گی تاکہ بے ضابطگیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔

واضح رہے کہ  ایف بی آر کی یہ اصلاحات پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد کی رفتار اور عملی نتائج آئندہ بجٹ میں واضح ہوں گے۔