امریکی ریاست کیلیفورنیا میں جیوری نے فیصلہ سناتے ہوئے اوپن اے آئی، سیم آلٹمین اور شریک بانی گریگ بروک مین کے خلاف مسک کے تمام دعوے خارج کر دیے۔

عدالت کے مطابق ایلون مسک کی جانب سے مقدمہ مقررہ وقت کے کافی بعد دائر کیا گیا، جس کے باعث قانونی مدت ختم ہونے پر کیس قابلِ سماعت نہیں رہا۔ جیوری نے واضح کیا کہ فیصلہ الزامات کے مواد پر نہیں بلکہ مقدمہ دائر کرنے میں تاخیر کی بنیاد پر کیا گیا۔

یاد رہے کہ ایلون مسک اوپن اے آئی کے ابتدائی بانیوں میں شامل رہے ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے کمپنی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ مسک نے الزام عائد کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے اپنے ابتدائی غیر منافع بخش مقاصد سے ہٹ کر تجارتی مفادات کو ترجیح دی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو محدود حلقوں کے مفاد کیلئے استعمال کیا۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمپنی کی تمام سرگرمیاں قانون اور اپنے طے شدہ اصولوں کے مطابق چل رہی ہیں۔

عدالتی فیصلے کو مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اوپن اے آئی کیلئے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب AI ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر سخت مقابلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد اوپن اے آئی کو درپیش سب سے بڑے قانونی خطرات میں سے ایک ختم ہو گیا ہے، جبکہ ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان کشیدگی مستقبل میں بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں توجہ کا مرکز بنی رہ سکتی ہے۔