حال ہی میں کروم کے تجرباتی ورژن  کروم کینری  میں ایک فیچر دریافت کیا گیا تھا جسے "Fulfill Searchbox Queries in AI Mode" کا نام دیا گیا۔

اس فیچر کے فعال ہونے پر صارفین کی جانب سے ایڈریس بار میں کی جانے والی تمام سرچز روایتی گوگل سرچ نتائج کے بجائے براہِ راست AI موڈ میں منتقل ہو جاتی تھیں۔

اس فیچر کے منظر عام پر آنے کے بعد صارفین اور ویب پبلشرز میں یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ گوگل مستقبل میں AI موڈ کو سرچ کا ڈیفالٹ طریقہ بنا سکتا ہے، جس سے ویب سائٹس کے ٹریفک پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

گوگل سرچ کے نائب صدر برائے انجینیئرنگ راجن پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیچر غلطی سے کینری بلڈ میں شامل ہو گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلطی تھی، ہم کروم سرچز کے لیے اے آئی موڈ کو ڈیفالٹ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

رپورٹس کے مطابق فی الحال گوگل سرچ میں صارفین کو روایتی سرچ نتائج "All" ٹیب میں دکھائے جاتے ہیں، جب کہ اے آئی موڈ تک رسائی کے لیے الگ ٹیب یا اے آئی Overview کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔

تجرباتی فیچر کے تحت سرچ بار میں لکھی جانے والی ہر سرچ خودکار طور پر اے آئی موڈ میں کھل جاتی تھی۔

اگرچہ گوگل نے اس فیچر کو محض ایک تجرباتی غلطی قرار دیا ہے، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر کمپنی کی مصنوعی ذہانت سے متعلق طویل المدتی حکمت عملی پر بحث چھیڑ دی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل مسلسل اپنی سرچ سروس میں اے آئی خصوصیات شامل کر رہا ہے۔ گزشتہ ماہ کمپنی نے اپنی سالانہ ڈویلپر کانفرنس میں اے آئی موڈ کو سرچ باکس کی گزشتہ 25 برسوں کی سب سے بڑی اپ گریڈ قرار دیا تھا۔

کروم کینری گوگل کا وہ تجرباتی پلیٹ فارم ہے جہاں نئے فیچرز کو مستحکم ورژن میں شامل کیے جانے سے قبل آزمایا جاتا ہے۔ تاہم تمام تجرباتی فیچرز حتمی طور پر صارفین تک نہیں پہنچتے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ فی الحال AI موڈ کو کروم سرچ کا ڈیفالٹ تجربہ بنانے کی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں، تاہم کمپنی سرچ میں مصنوعی ذہانت کے مزید استعمال پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔