اور بلدیاتی نظام کی بحالی اور تسلسل کے لیے آئینی ترمیم کی بھی تجاویز دیں۔ آج وہی بات وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کر رہے ہیں۔ اسد عمر اور محسن نقوی، دونوں کو تین تین سال حکومت کرنے کے بعد پتا چلا کہ یہ نظام خراب ہے، نظام ری سیٹ ہونا چاہیے۔

دیکھا جائے تو آئینِ پاکستان میں بلدیاتی نظام کا حوالہ آرٹیکل 140-اے میں دیا گیا ہے، جو 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔ آئین میں الیکشن کا طریقۂ کار تو دیا گیا ہے، مگر اس نظام کی کیا حدود ہوں گی؟ کیا اختیارات ہوں گے؟ اور اسے کیسے چلایا جائے گا؟ یہ واضح نہیں ہے۔

یہاں نظریے اور عمل میں فرق نمایاں ہے۔ اگرچہ آرٹیکل 140-اے صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں اختیارات منتقل کریں، لیکن اس آئینی ہدایت پر عملدرآمد کا واضح طریقۂ کار موجود نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومتیں اس کی تشریح اور نفاذ اپنی صوابدید پر کرتی رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی صوبوں میں بلدیاتی اداروں کے متوازی ڈھانچے قائم رہے، جبکہ مالی و انتظامی کنٹرول عملاً صوبائی حکومتوں ہی کے پاس رہا۔

پنجاب کی مثال اس کی واضح تصویر پیش کرتی ہے: پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 کے تحت اختیارات عملاً منتخب نمائندوں سے چھین کر بیوروکریسی کے حوالے کیے گئے، اور میئر و کونسل کو محض نمائشی حیثیت دے کر اصل اختیار ڈپٹی کمشنر جیسے سرکاری افسران کے پاس رکھا گیا، جسے ناقدین آرٹیکل 140-اے کی روح کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اس اکلوتی شق پر عمل بھی نہیں ہوتا۔ پنجاب میں ایک عرصے سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، نہ عمران خان نے عوام کو ان کا حق دیا، اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت بھی اس حوالے سے تیار نظر نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں انتخابات تو کروا دیے، مگر وہاں بھی اپاہج بلدیاتی ادارے موجود ہیں۔

حکومت میں موجود وزرا ناکامی کا اعتراف کا اعتراف نہیں کررہے بلکہ اس جرم کو مان رہے ہیں کہ "ہم کسی کام کے نہیں ہیں"۔ یہ اعتراف دراصل اس خوف کا نتیجہ ہے جو ہمسایہ ممالک میں نسلِ نو پر طاری ہو چکا ہے اور حکومتیں گرا چکا ہے۔ یہی خوف محسن نقوی کے خطاب سے بھی جھلک رہا تھا۔

بات یہاں تک نہیں رکی۔ اگلے روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس "خوف" کی توثیق کر دی۔ مسئلہ صوبے نہیں، مسئلہ طرزِ حکمرانی ہے، وہ طرزِ حکمرانی جو سول اور عسکری قیادت دونوں اپنائے ہوئے ہیں۔ سول قیادت کام کرنے میں آزاد نہیں، اور اگر آزاد ہے تو وہ اپنا کام کرنا نہیں چاہتی۔ یہاں نظام کے اندر نظام ہیں، ریاست کے اندر ریاستیں ہیں، اور پورے منظر میں عوام لاوارث ہیں۔

کہنے کو تو پاکستان "اسلامی جمہوریہ پاکستان" ہے، مگر حقیقت میں ایک "سیکیورٹی سٹیٹ" ہے۔ ایک ایسی ریاست جس کی معیشت اسلحہ خریدنا اور اسلحہ فروخت کرنا ہے، ایک ایسی ریاست جس میں نہ جمہور کی اہمیت ہے اور نہ ہی جمہوریت کی۔

اگر یہ واقعی نظام ری سیٹ کرنا چاہتے ہیں تو عوام کا اقتدار عوام کے ہاتھ میں دے دیں۔ جمہوریت کی اصل بنیاد یونین کونسل اور ضلعی سطح کے منتخب نمائندے ہیں، عوام کا نظام عوام کے حوالے کر دیا جائے۔ ریاست اور عوام کے درمیان سماجی معاہدے کے طور پر آئین پر عملدرآمد کے بغیر کوئی بھی اصلاح کمزور بنیاد پر کھڑی رہے گی۔ آئین کی اصل روح کے مطابق عوام کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں، شفاف انتخابی عمل لایا جائے، اور روز بروز بڑھتی مہنگائی سے شہریوں کو نجات دی جائے۔

ہمارے معاشرے میں مسئلہ کسی قانون کا نہیں، کسی کو سزا دینے کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سچ بولنے والوں کا قحط ہے، سچ لکھنے والوں کا فقدان ہے، اور سب سے بڑھ کر سچ سننے والوں کی کمی ہے۔ کوئی سچ لکھنا نہیں چاہتا، کوئی سچ بولنا نہیں چاہتا، اور اگر کوئی بولتا بھی ہے تو کوئی اسے سننا پسند نہیں کرتا۔

نظام کنٹرولڈ میڈیا کے سامنے بھاشن جھاڑنے سے ری سیٹ نہیں ہوگا، یہ سچ سننے، برداشت کرنے اور کہنے سے ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ 47ء سے فارم 47 تک سب "بندوبست" ناکام ہو چکے، بس اسی کا اعتراف کر لیا جائے۔

تحریر: اظہر تھراج 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر