یہ ہے وہ بیانیہ جو امریکہ پوری دنیا کو دکھا رہا ہے، جبکہ تصویر کا دوسرا رخ اس کے بالکل مختلف ہے: "عوامی بیانات محض ایک اسکرین ہیں، جبکہ طاقت کا اصل مرکز — یہودی لابی اور اندرونی سیاسی نظام — وہیں کا وہیں ہے۔" امریکی میڈیا اور سیاست دان دونوں ہی، عوام کی مہنگائی، بیرونی جنگوں اور بے روزگاری سے تنگ آ کر، اسرائیل کو "بوجھ" کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ داخلی عوام کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ مگر حقیقی فیصلے — جیسے ہتھیاروں کی ترسیل، اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور، اور اسرائیل مخالف طاقتوں کے خلاف دنیا بھر میں خفیہ آپریشنز — کبھی عوامی غصے سے متاثر نہیں ہوتے۔ بل کلنٹن ہوں، بائیڈن ہوں، اوباما ہوں یا ٹرمپ، کانگریس میں اسرائیل کے خلاف کوئی سنجیدہ بل پاس نہیں ہوتا، اور اگر ہو بھی جائے تو اسے ویٹو کر دیا جاتا ہے۔ امریکی سیاست کا ایک ناقابلِ تغیر قانون یہودی لابی کے ہاتھ میں ہے، اور یہ لابی ہے: امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC)۔ یہ محض ایک لابی نہیں بلکہ واشنگٹن ڈی سی میں طاقت کا ایسا مرکز ہے جسے سمجھے بغیر امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا ناممکن ہے۔ "کوئی بھی صدر یہودیوں کی مرضی کے بغیر کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا" — یہ کوئی خفیہ بات نہیں بلکہ امریکی انتخابی سیاست کا کھلا راز ہے جس سے سب بخوبی واقف ہیں۔ امریکی انتخابات دنیا کے مہنگے ترین انتخابات ہوتے ہیں، اور AIPAC اسے ایک ہتھیار کی طرح استعمال کرتی ہے۔ اس سے وابستہ دیگر تنظیموں میں سب سے اہم DMFI (ڈیموکریٹک میجارٹی فار اسرائیل) ہے، جو ہر انتخابی سائیکل میں تقریباً 10 سے 15 کروڑ ڈالر براہِ راست امیدواروں کو دیتی ہے، جبکہ غیر اعلانیہ سپر پیکس کے ذریعے یہ رقم 100 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ (DMFI امریکہ کی ایک انتہائی بااثر پولیٹیکل ایڈووکیسی تنظیم اور سپر پیک ہے، جو جنوری 2019 میں قائم ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل نواز پالیسیوں کو مضبوط کرنا اور ایسے امیدواروں کو کامیاب کروانا ہے جو اسرائیل کے کٹر حامی ہوں۔ یہ تنظیم بالخصوص پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے خلاف مہم چلاتی ہے، جو غزہ کی صورتحال پر اسرائیل پر تنقید کرتا ہے۔)
وفاقی انتخابی کمیشن (FEC) کے ریکارڈز اور امریکی سکیورٹی ڈسکلوژرز کے مطابق، AIPAC نے 2022 کے مڈ ٹرم انتخابات میں مختلف چینلز کے ذریعے پانچ کروڑ ڈالر کی خطیر رقم براہِ راست اور بالواسطہ انتخابی مہمات میں جھونکی تھی۔ یہ فنڈنگ دو الگ طریقوں سے تقسیم کی گئی: روایتی پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (AIPAC PAC) نے دونوں جماعتوں کے 365 اسرائیل نواز امیدواروں کے کھاتوں میں براہِ راست 17 ملین ڈالر سے زائد کی رقم منتقل کی، تاکہ ان کی انتخابی پوزیشن مضبوط رکھی جا سکے۔ باقی رقم AIPAC کے سپر پیک، یونائیٹڈ ڈیموکریسی پروجیکٹ (UDP)، کے ذریعے خرچ کی گئی، جس نے تقریباً 33 ملین ڈالر کے آزادانہ اخراجات اور میڈیا اشتہارات کے ذریعے ان ڈیموکریٹک امیدواروں کو شکست سے دوچار کیا جو اسرائیل پر تنقید کرتے یا انسانی حقوق کی بنیاد پر فوجی امداد کو مشروط کرنے کی بات کرتے تھے۔ اس دوطرفہ سرمایہ کاری کا سب سے بڑا اسٹریٹجک مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریتی نشستیں چاہے ڈیموکریٹس کے پاس جائیں یا ریپبلکنز کے پاس، جیتنے والا چہرہ ہر صورت اسرائیل کا وفادار رہے، جس کے نتیجے میں امریکی قانون سازی پر لابی کا اثر و رسوخ عملاً غیر متزلزل ہو گیا۔
فلوریڈا، پنسلوانیا، نیویارک اور کیلیفورنیا جیسی کلیدی ریاستوں میں یہودی ووٹرز کا دباؤ، اور AIPAC جیسی لابیز کی طرف سے ہر انتخاب میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی فنڈنگ، کسی بھی امیدوار کو اسرائیل مخالف موقف اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ان تینوں ریاستوں کی امریکی انتخابات میں اہمیت تفصیل سے سمجھاتا ہوں۔ امریکی صدارتی انتخابات کے پیچیدہ ڈھانچے اور الیکٹورل کالج کے نظام میں کچھ کلیدی ریاستیں ایسی ہیں جہاں یہودی آبادی کا تناسب اور ان کی انتخابی ترجیحات پورے ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتی ہیں۔ مثلاً فلوریڈا میں یہودی آبادی محض تین فیصد کے لگ بھگ ہے، لیکن اپنے تیس الیکٹورل ووٹوں کے ساتھ یہ ریاست ہر صدارتی الیکشن میں ایک میدانِ جنگ بن جاتی ہے جہاں جیت اور ہار کا فرق اکثر اعشاریہ پانچ فیصد سے بھی کم ووٹوں سے طے ہوتا ہے، اور ایسے کانٹے دار مقابلے میں یہودی ووٹرز کا رجحان پورے پانسے کو پلٹنے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح پنسلوانیا انیس الیکٹورل ووٹوں کی حامل ریاست ہے جہاں 2020 کے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی جیت کا مارجن صرف اسی ہزار ووٹ تھا، جبکہ وہاں یہودی ووٹرز کی کل تعداد دو لاکھ سے زائد ہے — جو واضح کرتا ہے کہ یہ ووٹر بلاک کسی بھی امیدوار کو وائٹ ہاؤس پہنچانے یا روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ نیویارک، جہاں اٹھائیس الیکٹورل ووٹ ہیں اور جو روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کا ناقابلِ تسخیر گڑھ مانا جاتا ہے، وہاں کی کل آبادی کا تقریباً نو فیصد حصہ یہودی ووٹرز پر مشتمل ہے، جس کے باعث کوئی بھی امیدوار اسرائیل مخالف موقف اختیار کر کے پارٹی کی داخلی پرائمری جیتنے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ ان تمام جغرافیائی اور انتخابی حقائق کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بھی صدارتی امیدوار کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو، ان اہم ترین ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنے اور وائٹ ہاؤس کا ٹکٹ یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور اس کے مفادات کا تحفظ اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔
سنہ 2000 سے اب تک کے تاریخی ریکارڈز گواہ ہیں کہ کانگریس میں اسرائیل کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کرنے یا اسے ملنے والی امریکی فوجی امداد کو کسی شرط سے مشروط کرنے کے لیے پچاس سے زائد بل اور قراردادیں پیش کی گئیں، مگر ان میں سے ایک بھی منظوری کا مرحلہ پار نہ کر سکا۔ اس غیر معمولی کامیابی کی واحد وجہ یہ ہے کہ AIPAC امریکی تاریخ کی وہ واحد اور منفرد لابی بن چکی ہے جسے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کی طرف سے نوے فیصد سے زائد مستقل دوطرفہ حمایت حاصل ہے — جو امریکی سیاست کی شدید داخلی تقسیم کے باوجود، اسرائیل کے معاملے پر دونوں حریفوں کو ایک پیج پر کھڑا رکھتی ہے۔ اس فولادی گٹھ جوڑ کی ایک حالیہ مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب سینیٹر برنی سینڈرز نے اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کرنے کی قرارداد پیش کی، لیکن کانگریس کے اس مضبوط اتحاد نے اسے بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا۔ اگرچہ اس نوعیت کی قراردادوں پر کچھ ترقی پسند ڈیموکریٹس کی حمایت میں معمولی اضافہ ضرور دیکھا گیا ہے، لیکن واشنگٹن کے روایتی فیصلے یہی بتاتے ہیں کہ جب تک دونوں بڑی جماعتوں کا یہ دوطرفہ گٹھ جوڑ قائم ہے، اسرائیل کو دی جانے والی فوجی یا سفارتی امداد کی سپلائی لائن کو قانونی طور پر چیلنج کرنا عملاً ناممکن رہے گا۔
امریکی نظامِ حکومت میں لابی کی طاقت صرف سفارتی دباؤ یا انتخابی فنڈنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ اثر و رسوخ قانون سازی کے بنیادی عمل کے اندر تک دھنسا ہوا ہے، جہاں بہت سے قوانین کا مسودہ براہِ راست AIPAC کے اپنے قلم سے تیار ہوتا ہے۔ واشنگٹن کے باخبر حلقوں میں یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ تنظیم صرف اراکینِ پارلیمنٹ کو قائل نہیں کرتی، بلکہ خود اپنے دفاتر میں بیٹھ کر قوانین کی اصل تحریر مرتب کرتی ہے۔ اس کی ایک کلاسک مثال "یو ایس-اسرائیل اسٹریٹجک پارٹنرشپ ایکٹ 2014" ہے، جو تقریباً سو فیصد AIPAC کے دفتر میں لکھا گیا اور کانگریس نے اسے بغیر کسی بڑی تبدیلی یا اعتراض کے جوں کا توں پاس کر دیا۔ اسی طرح کا ایک اور تاریخی مظاہرہ "یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995" کی شکل میں دیکھنے کو ملا، جو بنیادی طور پر AIPAC کی تیار کردہ طویل مدتی تجویز تھی جس کے تحت امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنا قانونی طور پر لازم قرار پایا، اور ٹھیک پچیس سال بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی دور میں اس پر دستخط کر کے اسے زمین پر نافذ کیا۔ یہ اثر صرف سیاسی قوانین تک محدود نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حساس ترین خفیہ انٹیلیجنس شیئرنگ اور سکیورٹی تعاون کے معاہدوں کا بنیادی ڈھانچہ اور ان کے قوانین بھی AIPAC ہی کی قانون ساز مشینری اور قانونی ماہرین کی نگرانی میں تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ سب اس بات کے لیے کافی ہے کہ جب اسرائیل کے مفادات کی بات ہو تو امریکی کانگریس اکثر صرف ایک مہرِ تصدیق کا کام کرتی ہے، جبکہ قلم اور الفاظ دونوں اسی لابی کے اپنے ہوتے ہیں۔
امریکہ-اسرائیل تعلقات کی تفصیلات بہت طویل ہیں، اور میرے پاس لکھنے کی گنجائش محدود ہے، تو اختتام پر اتنا کہوں گا کہ اسرائیل کے حوالے سے امریکی صدر کا یہ نیا بیان محض عرب دنیا کو خوش کرنے کی ایک ڈپلومیٹک چال تھی، نہ کہ پالیسی میں تبدیلی۔ امریکی اقدامات تاحال بیانات سے متصادم ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ اسکرپٹ بدلا ہے مگر اداکار اور اداکاری وہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ اب دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، دراصل عوام کی توجہ ہٹانے اور داخلی دباؤ کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کا مرکز آج بھی اسرائیل کا تحفظ ہے، کیونکہ یہ امریکہ کی اپنی مجبوری بھی ہے۔
اگرچہ توجہ کا مرکز چین اور یوکرین کی طرف منتقل ہو گیا ہے، مگر اسرائیل کے ساتھ تعلق سیاسی اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے ایک "سرخ لکیر" ہے، جسے کوئی بھی صدر — چاہے ٹرمپ ہو یا کوئی اور — پار نہیں کر سکتا۔ تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اسرائیل بھی اب اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتا، کیونکہ امریکہ کے بغیر اس کی علاقائی برتری اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا یہ رشتہ عوامی طور پر کھٹاس اور خفیہ طور پر میٹھاس کا ایک کھیل ہے، جسے سمجھنے کے لیے میڈیا سے ہٹ کر فنڈنگ، لابیز اور انتخابی جغرافیے کو دیکھنا ضروری ہے۔
AIPAC کا سرمایہ اور سیاسی اثر و رسوخ بلاشبہ غیر معمولی ہے، لیکن واشنگٹن پر اسرائیل کی گرفت کو صرف ایک لابی گروپ کے کھاتے میں ڈال دینا اسٹریٹجک حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ امریکی پالیسی کو اسرائیل کے حق میں مروڑنے کے پیچھے کئی گہرے ساختی، نظریاتی اور سیکیورٹی محرکات کام کر رہے ہیں، جن کی جڑیں امریکی ریاست کے اندرونی ڈھانچے میں بہت گہری ہیں۔
پہلا اور بڑا محرک امریکی دفاعی صنعت (Defense-Industrial Complex) کا مفاد ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور بوئنگ جیسی بڑی ہتھیار ساز کمپنیاں، اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فوجی امداد کو اپنے لیے منافع بخش کاروبار کے طور پر دیکھتی ہیں۔ قانون کے مطابق اسرائیل کو ملنے والی امریکی امداد کا بڑا حصہ واپس امریکی دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں کے آرڈرز کی صورت میں منتقل ہوتا ہے — یعنی امریکی ٹیکس دہندہ کا پیسہ واشنگٹن سے نکل کر تل ابیب کے راستے دوبارہ امریکہ کے اپنے ملٹری انڈسٹریل بیس میں آ جاتا ہے، جو امریکی ریاستوں میں روزگار پیدا کرتا ہے اور کارپوریٹ منافع بڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی پینٹاگون اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے جدید ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی نظام کے لیے ایک لائیو لیبارٹری کے طور پر استعمال کرتا ہے، جہاں ہتھیاروں کی حقیقی میدانِ جنگ میں آزمائش کی جاتی ہے۔
دوسرا بڑا محرک "کرسچن زائنزم" کی نظریاتی اور مذہبی قوت ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے سفید فام ایوینجلیکل عیسائیوں کی تعداد خود یہودی ووٹرز سے کئی گنا زیادہ ہے، اور ان کا ووٹ بینک ریپبلکن پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اسرائیل کی ریاست کا قیام اور یروشلم پر اس کا مکمل کنٹرول عیسائیت کی مذہبی پیشگوئیوں اور مسیح کی دوبارہ آمد کے لیے لازمی ہے۔ یہ کروڑوں ووٹرز کسی لابی کے دباؤ کے بغیر، محض اپنے عقیدے کی بنیاد پر امریکی صدور اور کانگریس پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کریں۔
تیسرا محرک انٹیلیجنس اور سیکیورٹی کا وہ اٹوٹ گٹھ جوڑ ہے جو پچھلی کئی دہائیوں میں قائم ہو چکا ہے۔ امریکی سی آئی اے اور نیشنل سیکیورٹی ایجنسی، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور بحیرہ روم کے خطے میں انٹیلیجنس ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور پیگاسس جیسے جاسوسی سافٹ ویئرز کے لیے اسرائیلی اداروں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ پینٹاگون کے نزدیک اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا "ناقابلِ تسخیر امریکی بحری جہاز" (Unsinkable Aircraft Carrier) ہے جو کسی بھی بڑے علاقائی بحران میں امریکہ کے تزویراتی مفادات کا پہرا دیتا ہے، اور واشنگٹن کو وہاں اپنے فوجیوں کی مستقل بڑی تعداد تعینات کرنے کی زحمت سے بچاتا ہے۔
ان تمام محرکات کے ساتھ ساتھ، امریکی میڈیا اور تھنک ٹینکس کا ایک وسیع نیٹ ورک (جیسے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی) موجود ہے، جو واشنگٹن کی دانشورانہ فضا کو اس طرح مینیج کرتا ہے کہ اسرائیل کا دفاع امریکی قومی سلامتی کا ذاتی دفاع محسوس ہونے لگے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم تصویر کا پورا رخ دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ AIPAC تو صرف اس پورے نظام کا ایک پبلک چہرہ ہے؛ اصل طاقت کارپوریٹ منافع، مذہبی عقیدے اور خفیہ سیکیورٹی اداروں کے اس گٹھ جوڑ میں چھپی ہے، جسے توڑنا کسی بھی امریکی صدر کے بس کی بات نہیں۔
مگر اس کمزور ہوتے تعلق کی ایک تلخ اور غیر جانبدارانہ حقیقت یہ بھی ہے کہ بوجھ بننے کے باوجود یہ رشتہ اتنی آسانی سے ٹوٹنے کی طرف نہیں جا سکتا، جس کی دو ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اسرائیل کے پاس اس وقت دنیا میں کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں، کیونکہ ترکی، روس یا چین میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جو امریکہ کی طرح اسرائیل کو اقوامِ متحدہ میں غیر مشروط ویٹو پاور فراہم کرے اور سالانہ اربوں ڈالر کی مفت فوجی امداد کا بوجھ اٹھائے — خصوصاً جب روس کے اسٹریٹجک تعلقات ایران اور شام سے جڑے ہوں اور چین صرف اپنے تجارتی مفادات میں دلچسپی رکھتا ہو۔ دوسری بڑی وجہ خود امریکہ کی داخلی سیاست ہے، جہاں اسرائیل نواز لابی — جیسے AIPAC — اور امریکہ کی بڑی دفاعی کمپنیاں، بشمول لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ، انتخابی فنڈز اور معیشت کو اس حد تک کنٹرول کرتی ہیں کہ کوئی بھی صدر، چاہے وہ ٹرمپ ہی کیوں نہ ہو، اندرونی سیاسی خودکشی کیے بغیر اسرائیل کا ہاتھ مکمل طور پر نہیں چھوڑ سکتا۔
چنانچہ یہ ماننا بالکل درست ہوگا کہ امریکی تحفظ کی وہ پرانی تاریخی ضمانت اب ختم ہو چکی ہے، جہاں اسرائیل جو چاہے کرتا تھا اور امریکہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے کھڑا رہتا تھا۔ اب امریکہ دباؤ بھی بڑھا رہا ہے اور اپنے مفادات کو ترجیح بھی دے رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ رشتہ ایک ایسے ٹوٹتے ہوئے کیتھولک نکاح کی مانند بن چکا ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے سے شدید تنگ ہیں، دونوں ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لیکن علیحدگی کے اثرات اتنے ہولناک اور پیچیدہ ہیں کہ دونوں اس بوجھ کو اٹھا کر ساتھ چلنے پر مجبور ہیں۔
تحریر: حسیب اصغر
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ — ایڈیٹر







