اسلام آباد میں گزشتہ روز سندھ طاس معاہدے پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار میں یہی سوال سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا کہ اگر پانی کو سیاسی یا سفارتی دباؤ کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج صرف پاکستان اور انڈیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کا امن اور غذائی تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے سیمینار میں واضح مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک دوطرفہ معاہدہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی ایک اہم مثال ہے۔

اگر کوئی فریق یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو غیر مؤثر بنانے یا پانی کے بہاؤ کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سفارتی، قانونی اور ضروری قومی اقدام اٹھائے گا۔

یہ بیان صرف ایک سیاسی پیغام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے خدشے کا اظہار بھی تھا جو اپریل 2025 کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔

پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے پہلی مرتبہ سندھ طاس معاہدے میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حالات بدل چکے ہیں۔ پاکستان نے اس اقدام کو یکطرفہ، غیر قانونی اور بین الاقوامی معاہدوں کی روح کے منافی قرار دیا۔

یوں وہ معاہدہ، جسے دہائیوں تک پاک-انڈیا تعلقات کا سب سے مستحکم ستون سمجھا جاتا تھا، اچانک تنازع کے مرکز میں آ گیا۔ لیکن اس کہانی کی ابتدا آج سے نہیں بلکہ تقریباً آٹھ دہائیاں پہلے ہوتی ہے۔

1947 میں برصغیر تقسیم ہوا تو سرحدیں ضرور کھینچ دی گئیں، مگر دریا کسی نقشے کے پابند نہیں تھے۔ ان کا منبع ایک طرف تھا اور ان کا پانی دوسری طرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔ یہی وہ حقیقت تھی جس نے جلد ہی پانی کو دونوں نئے ممالک کے درمیان سب سے حساس مسئلہ بنا دیا۔

1948 میں انڈیا نے پاکستان جانے والے بعض نہری راستوں کا پانی عارضی طور پر روک دیا، جس سے پاکستان میں شدید تشویش پیدا ہوئی۔ یہی بحران بعد ازاں کئی برسوں کے مذاکرات کا سبب بنا۔

آخرکار 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان، انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور عالمی بینک کی موجودگی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے۔

اس معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج انڈیا کے حصے میں آئے جب کہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کے بنیادی حقوق پاکستان کو تسلیم کیے گئے۔ یہی تین دریا آج پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ملک کی تقریباً 80 فیصد آبپاشی انہی دریاؤں کے نظام سے وابستہ ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں کے باوجود بھی سندھ طاس معاہدہ برقرار رہا۔ دونوں ممالک نے اختلافات کے باوجود اس معاہدے کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ پانی پر تصادم صرف دو ریاستوں کا نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

آج سوال پھر وہی ہے۔ کیا انڈیا واقعی پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟ مختصر جواب یہ ہے کہ فوری طور پر نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سندھ، جہلم اور چناب جیسے بڑے دریاؤں کا پورا بہاؤ روکنے کے لیے وسیع آبی ذخائر، بڑے ڈیم، نہری نظام اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش درکار ہوتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں انڈیا کے پاس ایسا انفراسٹرکچر موجود نہیں جو اچانک پاکستان کی جانب جانے والے تمام پانی کو روک سکے۔ البتہ اگر مستقبل میں بالائی علاقوں میں مزید ذخائر، بند یا آبی منصوبے تعمیر کیے جائیں تو پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر کسی حد تک اثر انداز ہونے کی صلاحیت بڑھ سکتی ہے۔ یہی خدشہ پاکستان مسلسل عالمی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔

اگر خدانخواستہ پاکستان کو پانی کی فراہمی میں نمایاں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ زرعی پیداوار کم ہو سکتی ہے، غذائی اجناس مہنگی ہو سکتی ہیں، لاکھوں کسانوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، بجلی بنانے والے آبی منصوبوں کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے اور پانی کی قلت معاشی دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

یوں پانی کا بحران صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کا مؤقف ہے کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی دباؤ یا تنازع کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین بھی سرحد پار دریاؤں کے منصفانہ اور معقول استعمال پر زور دیتے ہیں کیونکہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، جنگ کا ذریعہ نہیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

اگر اب پانی بھی سفارتی محاذ سے نکل کر تصادم کا مستقل ذریعہ بن گیا تو نقصان صرف ایک ملک کا نہیں ہوگا بلکہ پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جنگیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر پانی کی کمی نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں، کھیتوں، شہروں اور مستقبل کے درمیان ایک پل ہے۔ اگر یہ پل کمزور پڑ گیا تو اس کے نیچے صرف دریا نہیں، پورے خطے کا استحکام بہہ سکتا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر