اب اسے سمجھنے کے لیے پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران امریکا جنگ میں سب سے زیادہ نقصان کس فریق کا ہوا اور کس نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس بات کا جائزہ لیں تو ہمیں سارا نقصان امریکا کا ہی نظر آتا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ سارا نقصان امریکا اور اسرائیل کا کیسے ہوگیا؟ قیادت  ایران کی شہید ہوئی  ہے، شہری آبادی شہید ہوئی، میناب کے اسکول میں معصوم بچیاں نشانہ بنیں اور بڑے پیما نے پر اربوں ڈالرز کا انفراسٹرکچر بھی  ایران کا ہی تباہ ہوا ہے۔

ایسے میں نقصان تو امریکا و اسرائیل کے بجائے ایران کا ہوا اور شکست بھی ایران کو ہوئی۔ اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو آپ غلط ہیں۔

میں آپ کو بتاتا ہوں کہ  ایران  کیسےجیتا اور امریکا و اسرائیل  کو اس جنگ میں شکست کیسے ہوئی؟ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دہائیوں سے ایران پر   امریکا اور یورپی ممالک کی طرف سے اقتصادی پابندیاں ہیں۔

ایران  کھل کردوسرے ممالک کے ساتھ تجارت نہیں کر سکتا، ایران تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے مگر المیہ دیکھیں کہ وہ انہیں عالمی منڈی میں بیچ نہیں سکتا۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے خاندان میں کسی فرد کو بالکل الگ تھلگ کر دیا جائے اوراسے اپنی بقا کی  جنگ لڑنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔

ایران کا مسئلہ بس یہ تھا کہ وہ  قومی سلامتی کے فیصلوں میں خود مختاری چاہتا تھا، اپنی سرحدوں کی حفاظت چاہتا تھا اور اپنے لوگوں کی فلاح چاہتا  تھا مگر یہ بات امریکا جو کل تک ایک سپر پاور تھی اسے گوارا نہیں تھی۔

اسرائیل کے معاملے پر بھی ایران کا    شروع  سے ایک اصولی موقف رہا ہے کہ یہ ایک سفاک ریاست ہے جو فلسطین اور لبنان پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور  نتین یاہو گریٹر اسرائیل کے خواب دیکھ رہا ہے۔

اسی سفاک ریاست کو اپنے  منظوم مقاصد سے روکنے کے لیے ایران زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کرتا آیا ہے، یہی بات امریکا کو  قبول نہیں تھی کہ ایران یا کوئی اور ملک میرے حکم کو نہ کہہ سکے۔امریکا تو ہر سربراہ مملکت کو اپنے اشاروں پر چلانے کا خواہشمند ہے۔

اسرائیل عرصے سے یہ بیانیہ بناتا آیا ہے کہ ایران اس کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے،حالیہ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکا اور اسرائیل  کویہ غلط فہمی  تھی کہ  شاید وہ  ایرانی رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر کے باآسانی ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے اور رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو وہاں اپنی کٹھ پتلی بنا کر بٹھا دیں گے۔

امریکا کو یہ توقع تھی کہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت بنے اور وہ ہمارے اشاروں پر ناچے گا۔ انہوں نے حملہ کرنے سے پہلے ایران میں لوگوں کو اکسایا کہ مہنگائی کے خلاف وہ باہر نکلیں احتجاج کریں اور حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

صدر ٹرمپ نے بیانات دیے کہ میں آپ کا خیرخواہ ہوں، آپ کی بھلائی چاہتا ہوں آپ حکومت پر بس قبضہ کریں، آپ کے پاس نسلوں میں ایک بار پیدا ہونے والا موقع ہے۔

دسمبر اور جنوری میں کچھ دن احتجاج تو ہوا لیکن پھر حکومت کے خلاف جہاں احتجاج  ہوئے وہیں اس  سے بڑے احتجاج حکومت کے حق میں بھی  نکلے اور حالات کنٹرول کر لیے گئے۔

اس چیز سے مایوس ہو کر امریکا نے اسرئیل کی باتوں میں آکر وہ غلطی کر دی جو اسے نہیں کرنی چاہیے تھی اور ایران پر حملہ کر دیا۔

ٹرمپ کا خیال تھا کہ ادھر قیادت کو شہید کیا  تو ادھر ایران بکھر جائے گا، لیکن یہ ان کا وہم انہیں لے ڈوبا ۔ ان  کی توقعات کے برعکس یہ ہوا کہ ایران ڈٹ گیا ایران کی عوام  پہلے سے زیادہ متحد ہو گئی۔

ایران کی قیادت شہید ہوئی ایران کو مختلف دھمکیاں دیں گئیں ٹرمپ کی طرف سے کہ میں تباہ کر دوں گا ، جنگ شروع کرتے امریکا اور اسرائیل کا پلان یہ تھا کہ  یہ جنگ چار دن میں ختم ہوجائے گی اور اس طرح  وہ آبنائے ہرمز سمیت ایران کے تیل کے ذخائرپر قبضہ لیں گے۔

یہ بھی پلان تھا کہ اسی جنگ کواپنے الیکشن کے لیے استعمال کریں گے، ادھر گریٹر اسرائیل بن جائے گا سارے معاملات کا حل نکل آئے گا۔

لیکن جب ایران ڈٹ گیا  اور ٹرمپ کی کسی دھمکی کو خاطر میں نہ لایا، امریکا اور اسرائیل کی اس کھلی جارحیت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تو اس دلیری کو دیکھ کر ایرانی قوم بھی  ڈٹ گئی، ایران نے وہ کیا جس کی ٹرمپ اور نیتن یاہو کو امید نہیں تھی۔

ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کرنے شروع کر دیے، اسرائیل پر بھی سینکڑوں میزائل داغے، امریکا جس نے اڈے ایران کے اردگردخلیجی ممالک میں صرف اس لیے بنائے ہوئے تھے کہ ہم آپ کا تحفظ کریں گے اپنے اڈاوں کا ہی تحفظ نہ کرپایا۔

جب ایران نہیں جھکا تو ٹرمپ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے، ہردن میں پانچ پانچ بار بیانات دیتے اور ہر بار خود کو  خود ہی غلط ثابت کر دیتے۔دنیا کو بہت جلد معلوم ہوگیا کہ صدر ٹرمپ حملہ کرکے پھنس  گئے ہیں اور اب وہ جلد از جلد اس جنگ  سے نکلنا  چاہتے ہیں۔

اس کے برعکس امریکا کا اتحادی اسرائیل اس جنگ کو لمبا لے کر چلنا چاہتا تھا، ایسے میں دیکھا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ایران صرف پاکستان کی ہی بات مان سکتا ہے۔

پھر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم  شہباز شریف کی دن رات محنت اور سفارتی کوششوں سے یہ دن آیا کہ بالاآخر ایران اور امریکا کے درمیان ایک  ڈیل سائن ہو گئی۔

آپ ایران امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو غور سے پڑھیں تو اس پر آپ کو14پوائنٹس نظر آئیں گے مگر  ان نکات کا خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ امریکا یہ جنگ ہار گیا ہے اور اسرائیل اب منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ امریکا جس چیز کے لیےایران پر حملہ آور ہواتھا  تو کیا وہ مقصد حاصل کر لیا؟ جواب ہے نہیں۔ سب سے پہلا ٹرمپ کی ساکھ کو یہ نقصان ہوا کہ جنگ  کے دوران جس طرح ٹرمپ بیان پر بیان دیتے رہے لیکن ایک بات بھی ان کی درست ثابت نہیں ہوئی، اس دوران تو ایران اور باقی ممالک نے انہیں سیریس لینا ہی چھوڑ دیا ۔

پھر ٹرمپ رجیم چینج کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا بھی نہیں کر سکا۔ بلکہ پہلے سے بھی سخت قیادت سامنے آگئی۔ اب بات کرتے ہیں آبنائے ہرمز کی۔

ٹرمپ دعویٰ کررہے ہیں کہ میں نے آبنائے ہرمز کھلوا دی ہے تو سوال یہ ہے کیا آج تک ایران نے اس سے پہلے کبھی آبنائے ہرمز کو بند کیا  تھا؟

جواب ہے کہ نہیں۔ بلکہ اس  نے  توآبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کو دے دیا ہے وہ اگرچہ ٹول ٹیکس نہیں لگائیں گے مگر جہازوں سے ترکیہ  کی طرح سروسز فیس لیں گے۔

جنگ سے پہلےایک جو رعب تھا کہ  امریکا اس عالمی نظام میں ایک ۔۔سپرپاور۔۔ہے اور سب اس سے ڈرتے تھے وہ رعب اس جنگ کے بعد ختم ہو گیا  ہے۔

خلیجی ممالک کا اعتبار  بھی امریکا سے اٹھ گیا ہے کہ امریکا ہماری حفاظت کر سکتاہے بلکہ اب وہ اپنےڈیفنس کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، ان کے درمیان ایک دراڑ آئی اس معاہدے کی وجہ سے کیونکہ اسرائیل اس جنگ سے نہیں نکلنا چاہتا تھا لیکن امریکا کا دم گھٹنے لگا ہے۔

اب اسرائیل کو بھی فورسز لبنان سے نکالنے کے لیے ٹرمپ فورس کر رہا ہے۔ اسرائیل تو ایران امریکا جنگ سے پہلے بھی لبنان اور فلسطین پر حملے کر رہا تھا لیکن اب اس جنگ کے بعد جو معاہدہ ہوا  ہے، امریکا اور دنیا اسے مجبور کرے گی کہ لبنان میں جنگ ختم کی جائے اور اگر جنگ ختم نہیں کرے گا تو امریکا اور اسرائیل کے آپس میں معاملات مزید خراب ہو جائیں گے۔

اس سارے معاملات میں فیک اسٹیٹ کے وزیراعظم نیتن یاہو بھی پھنس کر رہ گئے ہیں، حالانکہ وہ جنگ سے پہلے فلسطین اور لبنان میں ظلم کر رہے تھے تو اسے کوئی خاص کر امریکا نہیں مجبور کر رہا تھا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔

ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے  ہم کہہ سکتے ہیں کہ  اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل  کی بری طرح ہار ہوئی ہے اور ایران کو یہ حاصل ہوا ہے کہ اب اس پرسے پابندیاں نرم کی جائیں گی اور نقصان کے مد میں اسےپیسے دیے جائیں گے۔

ایران کی یہ بڑی جیت ہے کہ وہ اس جنگ میں سرخرو ہو کر نکلا ہے، اس کی قیادت نے ناصرف اپنے ملک کو ٹوٹنے سے بچایا بلکہ سپر پاور امریکا کو بھی اپنے سامنے  جھکنے پر مجبور کردیا۔

تحریر: واصف علی واصف (صحافی)

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر