پیٹرولیم لیوی دراصل حکومت کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، مگر اس کی ادائیگی کا اصل بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔ جب پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خورونوش سمیت پوری معیشت مہنگائی کی نئی لہر کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ دراصل مہنگائی میں اضافے کا ایک اہم سبب بن جاتا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی بجٹ خسارے کو کم کرنے، مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور بعض قومی منصوبوں کے لیے ضروری ہے۔ حالیہ پالیسی مباحث میں اس بات کا بھی ذکر سامنے آیا ہے کہ مستقبل میں لیوی کے ایک حصے کو اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ کسی عالمی بحران یا سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں ملک کے پاس محفوظ ذخائر موجود ہوں۔ یہ اپنی جگہ ایک اہم قومی ضرورت ہے، لیکن اس سے یہ سوال ختم نہیں ہو جاتا کہ آخر اس کا بوجھ کب تک براہِ راست عوام ہی برداشت کریں گے۔

معاشی اصول یہ کہتے ہیں کہ حکومتیں عارضی محصولات پر مستقل انحصار نہیں کر سکتیں۔ اگر بجٹ کا بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی جیسے ذرائع سے پورا کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کی بنیادیں ابھی بھی کمزور ہیں۔ پائیدار معیشت کی بنیاد پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی ہوتی ہے، نہ کہ ایسے محصولات جو ہر روز عام شہری کی جیب سے وصول کیے جائیں۔

پاکستان کی اصل ضرورت یہ ہے کہ حکومت اپنی معاشی ترجیحات کو عارضی ریونیو اکٹھا کرنے سے نکال کر مستقل اصلاحات کی طرف منتقل کرے۔ مقامی صنعت کو سستی توانائی، آسان قرضوں، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر کاروباری ماحول کے ذریعے مضبوط بنایا جائے۔ برآمدی صنعت کو فروغ دیا جائے تاکہ ملک میں زرِ مبادلہ آئے، درآمدات پر انحصار کم ہو اور حکومت کو مالی وسائل کے لیے بار بار عوام پر نئے بوجھ ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

اسی طرح زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، ٹیکس نیٹ کو منصفانہ انداز میں وسعت دینا اور غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینا وہ اقدامات ہیں جو طویل مدت میں قومی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ اصلاحات سنجیدگی سے کی جائیں تو پیٹرولیم لیوی پر ضرورت سے زیادہ انحصار خود بخود کم ہو جائے گا۔

اس پس منظر میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور اضافی ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کو اس جماعت کی عوامی مہم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ حکومت کو فوری ریلیف دینا چاہیے اور عوام پر بڑھتے ہوئے مالی بوجھ میں کمی لانی چاہیے۔ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک جائز ذریعہ ہے، اور اگر اس کے نتیجے میں حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتی ہے تو اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

تاہم اصل ضرورت صرف احتجاج تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، معاشی ماہرین اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جس کے تحت پیٹرولیم لیوی کے نفاذ، اس کی شرح اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کے استعمال پر مؤثر پارلیمانی نگرانی ہو۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں ان سے وصول کی جانے والی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے، اس کے نتائج کیا ہیں اور اس کا فائدہ کب تک عام شہری تک پہنچے گا۔

پاکستان کی معیشت کو اس وقت وقتی سہارا نہیں بلکہ مستقل سمت درکار ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا چاہتی ہے تو اسے ریونیو کے آسان ذرائع پر انحصار کم کرتے ہوئے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر مبنی ایسی معاشی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔

بالآخر کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ حکومت نے کتنا ریونیو اکٹھا کیا، بلکہ یہ ہے کہ عوام کی زندگی میں کتنا آسانی پیدا ہوئی، کاروبار کتنے مضبوط ہوئے، روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے اور ملک معاشی خودکفالت کی جانب کتنا آگے بڑھا۔ یہی وہ مستقل راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان عارضی مالیاتی اقدامات سے نکل کر ایک مضبوط، خودمختار اور عوام دوست معیشت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

تحریر: کامران اشرف

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر