مال روڈ پر یہ منظر اس وقت کا ہے جب جماعتِ اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور لیوی کے خلاف دھرنا جاری تھا ۔ روشنیوں کے مینار جل رہے تھے، لاؤڈ اسپیکروں سے آواز ہجوم کے سروں پر پھیل رہی تھی اور نعرے وقفے وقفے سے فضا میں گونج رہے تھے۔

سفید کروشیے کی ٹوپی اور کندھوں پر نیلی چادر لپیٹے یہ نوجوان انہی ہزاروں لوگوں میں سے ایک تھا، مگر اس کا ایک عمل اسے باقی سب سے الگ کر رہا تھا۔وہ کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ وہ کسی کو تقریر سنا رہا تھا۔

فون کے دوسری طرف کون تھا، یہ یقینی طور پر معلوم نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ اس کا بھائی ہو جو اس وقت کسی رات کی شفٹ میں مصروف ہو۔ ہو سکتا ہے والد ہوں، کسی دور کے قصبے میں، جہاں ٹیلی ویژن کی رسائی محدود ہو۔ یا شاید والدہ ہوں، جنہیں صرف یہ اطمینان چاہیے تھا کہ ان کا بیٹا خیریت سے ہے۔

جو بھی تھا، اس نوجوان نے فیصلہ کیا کہ احتجاج کی یہ آواز صرف اسے سننے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔اس جیسے نوجوانوں کے لیے پٹرول کی قیمت صرف خبروں کی سرخی نہیں رہی ، یہ وہ رقم ہے جو ہر ہفتے موٹر سائیکل کی ٹینکی بھروانے پر خرچ ہوتی ہے، وہ حساب ہے جو نوکری یا کالج جانے سے پہلے ذہن میں چلتا ہے کہ آج کتنا پٹرول ڈلوانا افورڈ ہو سکتا ہے۔

ہر نیا ٹیکس، ہر نئی لیوی، اس کی جیب پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے کرایہ بڑھتا ہے، گھر کا سودا مہنگا ہوتا ہے اور تنخواہ وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ شاید یہی وہ وجہ تھی جو اسے اس رات دھرنے تک لے آئی۔

یہ فیصلہ بظاہر معمولی تھا۔ نہ اس میں کوئی جسمانی خطرہ تھا، نہ کوئی بڑی قربانی۔ مگر اسی چھوٹے سے عمل میں ایک بڑی بات چھپی ہوئی تھی، ایک عام سا موبائل فون، اس رات، شہر کے ایک احتجاج اور کسی دور بیٹھے شخص کے درمیان واحد رابطہ بن گیا۔

شاید یہ نوجوان سمجھ بیٹھا تھا کہ اب وقت ہے کے اپنے حقوق کے لیے حافظ نعیم الرحمان کے سنگ آواز بلند کی جائے ، شاید وہ ایک موبائل فون کے زریعے لوگوں کو بیدار کرنا چاہتا تھا ۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ منظر اپنے دائرے سے باہر نکل کر ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملک میں مہنگا ایندھن، محدود آمدنی اور روزگار کی غیریقینی جیسے مسائل نئے نہیں اور یہ ممکن ہے کہ فون کی دوسری جانب موجود شخص بھی انہی مشکلات سے دوچار ہو جن کے خلاف یہ دھرنا دیا جا رہا تھا۔

شاید وہ خود دھرنے تک نہیں پہنچ سکا فاصلہ، مصروفیت یا کوئی اور مجبوری آڑے آ گئی ہو۔ ایسے میں یہ فون کال اسے، کچھ دیر کے لیے ہی سہی، اس احتجاج کا حصہ بنا دیتی ہے جس میں وہ جسمانی طور پر شریک نہیں تھا۔

ممکن ہے وہ موجودہ نظام سے مطمئن نہ ہو، ممکن ہے اسے یہ محسوس ہوتا ہو کہ روایتی طریقوں نے اب تک اس کے مسائل حل نہیں کیے۔ لیکن اس کے باوجود، رات کے اس پہر ہجوم میں کھڑے ہو کر ایک آواز کو کسی اور تک پہنچانے کا یہ عمل مکمل مایوسی کی نہیں بلکہ ایک محتاط سی شمولیت اور دلچسپی کی نشانی تھا۔

اس رات حافظ نعیم الرحمان ، کم از کم اس ایک لمحے کی حد تک، محض ایک سیاسی رہنما نہیں رہے۔ وہ ایک آواز بن گئے ، لاؤڈ اسپیکر سے نکل کر ہزاروں کانوں سے گزرتی اور بالآخر ایک نوجوان کے ہاتھ میں موجود چھوٹے فون کے ذریعے کسی نامعلوم مقام تک پہنچ گئی ، مگر شاید اسی میں اس منظر کی اصل اہمیت ہے.

بڑی تبدیلیاں ہمیشہ بڑے فیصلوں سے شروع نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی وہ اتنی چھوٹی سی بات سے شروع ہوتی ہیں کہ ایک شخص صرف یہ سوچے کہ جو وہ خود سن رہا ہے کوئی اور بھی سنے۔

آج کے دور میں جہاں بہت سے لوگ اپنے ہی مسائل میں الجھے رہتے ہیں، وہاں کسی دوسرے کو یاد رکھنا، اسے اپنے لمحے میں شامل کر لینا یہ بھی ایک طرح کی حساسیت اور ہمدردی ہے، چاہے وہ کسی جلتے طیارے سے کسی کو بچانے جیسی بڑی قربانی نہ ہو۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر