ناروے، نیدرلینڈز، سنگاپور اور کئی دیگر ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے جیل نظام کو سزا کے بجائے بحالی کے تصور سے جوڑا ہے، جہاں قیدی کو صرف اس کے جرم سے نہیں بلکہ اس کے مستقبل سے بھی دیکھا جاتا ہے۔

 اسی عالمی سوچ کے تناظر میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں جیل اصلاحات کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ روایتی کال کوٹھڑیوں کو قید کے مراکز سے تعلیم، ہنر، علاج اور انسانی وقار پر مبنی اصلاحی اداروں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف دیواروں کی نہیں، سوچ کی تبدیلی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ جیل اصلاحات کے خصوصی اجلاس میں صوبے کے جیل نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ اجلاس میں اوور کراؤڈنگ، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی اور قیدیوں کی فلاح و بحالی کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور واضح کیا گیا کہ جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو حقیقی معنوں میں اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد اصلاحات پر بیک وقت کام جاری ہے۔

 کسی بھی اصلاحی نظام کی بنیاد اس سوچ پر ہوتی ہے کہ قیدی اپنی آزادی سے محروم ضرور ہے، لیکن اپنے بنیادی انسانی حقوق سے نہیں۔ اسی تصور کے تحت اجلاس میں قیدیوں کی بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے کئی فیصلے کیے گئے۔ قیدیوں کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی 30 جیل وینز کو جدید طرز پر ایئر کنڈیشنڈ بنانے اور دوبارہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا؛ ان وینز میں واش رومز، کیمرہ مانیٹرنگ اور بیک سپورٹ نشستیں فراہم کی جائیں گی تاکہ سفر کے دوران بنیادی سہولتیں میسر رہیں۔ اسی طرح مرد قیدیوں کے بیرکوں میں میٹرس فراہم کرنے، معیاری خوراک کی باقاعدہ نگرانی اور ہفتہ وار ڈائٹ پلان کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات بھی دی گئیں۔

دنیا بھر کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم قیدیوں میں دوبارہ جرم کی شرح کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ پنجاب کی جیلوں میں اسی سوچ کے تحت  ایک بیرک، ایک لائبریری  پالیسی نافذ کی گئی، جس کے نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اب تک 472 قیدی میٹرک، 367 انٹرمیڈیٹ اور 140 گریجویشن مکمل کر چکے ہیں، جبکہ  وزیرِ اعلیٰ پنجاب لٹریسی پروگرام  کے تحت 4 ہزار 141 قیدی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی امید کی علامت بھی ہیں۔ 

قیدیوں کی رہائی کے بعد سب سے بڑا سوال روزگار کا ہوتا ہے، اسی لیے جیلوں کے اندر صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ ہنر بھی سکھایا جا رہا ہے۔ قیدیوں کو موبائل فون ریپیئرنگ، موٹر سائیکل اور ٹریکٹر ریپیئرنگ، کمپیوٹر کورسز، ویلڈنگ اور کوکنگ کی عملی تربیت دی جا رہی ہے۔ مزید برآں، پنجاب کی 15 جیلوں میں مارکیٹ اورینٹڈ جیل انڈسٹریز بھی فعال ہیں، جہاں قیدی فرنیچر، قالین، ٹف ٹائلز، میلامائن کراکری، بیوٹی سوپ، فینائل، واشنگ پاؤڈر، ایل ای ڈی لائٹس، فٹ بال، دستانے اور ملبوسات جیسی مصنوعات تیار کر رہے ہیں۔

جیل کا شاید سب سے حساس پہلو وہ بچے ہیں جو اپنی ماؤں کے ساتھ وہاں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خصوصی طور پر قیدی ماؤں اور چھ سال تک کے بچوں کے لیے غذائیت، فوڈ سپلیمنٹس، بہتر بستروں، کھیل کے میدانوں اور تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دے رہی ہیں۔ ان کی ہدایات پر کم عمر قیدیوں کے لیے موجود اصلاحی مراکز کو مزید اپ گریڈ کیا جائے گا۔ فیصل آباد اور بہاولپور کے جوینائل بورسٹل ہاؤسز میں تعلیم اور سماجی تربیت کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جوشیلی تقریر مر چکی، بس تعزیت باقی ہے

 ایک مؤثر جیل نظام میں علاج بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے جتنا نگرانی۔ جنوری سے جون 2026 تک 91 ہزار 266 قیدیوں کی میڈیکل اسکریننگ اور علاج کیا گیا، جبکہ 74 پیشہ ور ماہرینِ نفسیات قیدیوں کی ذہنی صحت پر کام کر رہے ہیں۔ قیدیوں کو روزانہ تین وقت معیاری خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور مذہبی تہواروں پر خصوصی مینو بھی دیا جاتا ہے۔ خواتین قیدیوں کے لیے خصوصی ہائیجین کٹس اور بہتر واش رومز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی جیلوں میں جدید ریمیشن مینجمنٹ سسٹم، مفت بائیومیٹرک ویریفکیشن، وائس اینڈ پینک الرٹس، ایکس رے سسٹمز اور انٹیگریٹڈ کرمنل سسٹم پر کام جاری ہے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پنجاب کی جیلوں کو بھی گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے کا سامنا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جیلوں کی موجودہ گنجائش 39 ہزار تک ہے، جبکہ قیدیوں کی مجموعی تعداد 68 سے 79 ہزار کے درمیان ہے اور زیرِ سماعت قیدیوں کا تناسب 73 فیصد ہے۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے 27 نئی بیرکیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جبکہ چنیوٹ، مری، ننکانہ صاحب اور سمندری سمیت نئی جیلوں پر بھی کام جاری ہے۔ سال 2027 تک مجموعی گنجائش 43 ہزار 718 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

 ننکانہ صاحب کی زیرِ تعمیر جیل کے لیے 1.3 ارب روپے کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں، جبکہ ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مالی طور پر کمزور قیدیوں کو لیگل ایڈ ایجنسی کے ذریعے مفت قانونی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ تمام قیدیوں کو آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت حاصل ہے، اور ہر ہفتے 80 منٹ تک پی سی او کے ذریعے اہلِ خانہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ جیلوں میں ویٹنگ شیڈز، فیملی رومز اور ٹرانسپورٹ کارٹس بھی دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔ یہ اصلاحات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہیں: فیصل آباد، ڈی جی خان اور پنڈی بھٹیاں سمیت پنجاب کی پانچ بڑی جیلیں مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کی جا چکی ہیں

دنیا بھر میں جدید جیل اصلاحات کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سزا مکمل کرنے والا فرد دوبارہ جرم کی طرف نہ لوٹے بلکہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے کا حصہ بن سکے۔ پنجاب میں جاری اصلاحات بھی اسی وسیع تصور کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں تعلیم، ہنر، صحت، ذہنی بحالی، قانونی معاونت، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی سہولیات اور ادارہ جاتی اصلاح شامل ہیں۔

 ان اقدامات کی طویل مدتی کامیابی کا انحصار ان کے مؤثر اور مسلسل نفاذ پر ہوگا، تاہم ایک بات واضح ہے کہ جدید اصلاحی نظام کی بحث اب صرف جیل کی دیواروں تک محدود نہیں رہی بلکہ انسانی وقار، بحالی اور سماجی ذمہ داری جیسے تصورات بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ بعض اوقات معاشرے کی سب سے بڑی کامیابی کسی مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ ایک انسان کو دوبارہ زندگی جینے کا موقع دینا ہوتی ہے۔

تحریر: افضل بلال 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر