دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بات خود جماعتِ اسلامی کے کارکن بھی جانتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان صاحب بھی، جو دن رات مہنگائی کے خلاف للکارتے ہیں، دل ہی دل میں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ اسلام آباد میں بیٹھی حکومتوں کو سڑک کے شور سے زیادہ ڈالر کی چیخ سنائی دیتی ہے۔

اب آئیے، ذرا اصل کہانی کی طرف۔ یہ پیٹرول آخر مہنگا کیوں ہو رہا ہے، یا یوں کہیے کہ ہماری جیب کس مقدس فریضے کی نذر ہو رہی ہے۔

یکم جولائی کو پیٹرول 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر تھا۔ پھر جیسے کسی نے گھڑی کا الارم لگا دیا ہو۔ 22، 23، 24 جولائی، روز بروز اضافہ، حتیٰ کہ 28 جولائی تک پیٹرول 335 روپے 18 پیسے اور ڈیزل 383 روپے 46 پیسے تک جا پہنچا۔ حکومت نے البتہ مہربانی کی اور 27 جولائی تک قیمتیں "برقرار" رکھیں۔ گویا ڈوبتے جہاز کے مسافروں کو یہ خوشخبری دی گئی ہو کہ اگلے دس منٹ پانی کی سطح نہیں بڑھے گی۔

وجہ؟ وہی پرانی کہانی۔۔ ایران اور امریکا ایک دوسرے کی طرف آنکھیں دکھاتے ہیں، اور عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے، اور اس کا بل، ہمیشہ کی طرح، اسلام آباد سے کراچی تک، ہمارے موٹرسائیکل کی ٹینکی پر آ کر ٹوٹتا ہے۔ ہم ڈالر میں تیل خریدتے ہیں، روپیہ گرتا ہے تو بل بڑھتا ہے۔ OPEC+ کہیں بیٹھ کر فیصلہ کرتا ہے، امریکی فیڈرل ریزرو کہیں اور شرحِ سود بدلتا ہے، اور بیچ میں پستا کون ہے؟ وہی، جو موٹرسائیکل پر روزی کمانے نکلتا ہے۔

اور یہ سلسلہ صرف پیٹرول پمپ پر نہیں رکتا۔ کرائے بڑھتے ہیں، سبزی مہنگی ہوتی ہے کیونکہ ٹرک کا ڈیزل مہنگا ہوا، بجلی کا بل بھی چڑھتا ہے کیونکہ پاور پلانٹس بھی اسی تیل کے محتاج ہیں، اور چھوٹے کارخانے دار اپنے مزدور کو گھر بھیجنے کا سوچنے لگتے ہیں۔ یہ ایک زنجیر ہے، جس کی ہر کڑی غریب کی جیب سے ہو کر گزرتی ہے۔ امیر کے لیے یہ صرف اعداد ہیں، غریب کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال۔

خیر7 اگست کو حافظ صاحب کا احتجاج ہوگا، نعرے لگیں گے، شاید ٹریفک جام بھی ہو، مگر لیوی وہیں کھڑی رہے گی، بےنیاز، جیسے کسی سرکاری دفتر کی کرسی۔ جسے ہلانا آسان نہیں۔ لیکن حافظ صاحب کے تیور بتاتے ہیں کہ لیوی نہ گرائی گئی تو کرسی اٹھائی جائے گی۔ ماضی، مستقبل کا پتہ دے رہا ہے کہ حافظ صاحب پیچھا کرنے والے ہیں پیچھے ہٹنے والے نہیں۔