ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں جغرافیہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایران کی بندرگاہیں خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز جیسے انتہائی مصروف اور تنگ سمندری راستوں سے جڑی ہوئی ہیں، جہاں مکمل نگرانی اور کنٹرول عملی طور پر مشکل ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بعض ایرانی جہاز اپنی شناختی نشریات بند کر دیتے ہیں، جس سے وہ عالمی ٹریکنگ نظام میں وقتی طور پر نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ تاہم فوجی اور سیٹلائٹ نگرانی کے جدید نظام اکثر متبادل طریقوں سے ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگاتے رہتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو سمندری حدود کا قانونی استعمال ہے۔ اگر کوئی جہاز پاکستان یا بھارت جیسے ممالک کی علاقائی سمندری حدود میں سفر کرے تو بین الاقوامی قانون کے تحت بیرونی قوتیں براہِ راست کارروائی نہیں کر سکتیں، جب تک متعلقہ ریاست اجازت نہ دے۔ اس قانونی پیچیدگی سے بعض اوقات نگرانی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔



رپورٹس کے مطابق تیل کی تجارت میں بعض اوقات غیر روایتی طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں جہاز سے جہاز منتقلی، پرچم کی تبدیلی اور ملکیت چھپانے جیسے اقدامات شامل ہیں، جو اصل ماخذ کو شناخت کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مکمل بحری ناکہ بندی عملی طور پر انتہائی مشکل ہے، کیونکہ عالمی تجارت کے بڑے سمندری راستوں سے روزانہ سینکڑوں جہاز گزرتے ہیں، اور ہر مشتبہ جہاز کو روکنا نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے بلکہ عالمی تجارت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اس طرح ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال ایک مسلسل کشمکش کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے، جس میں جغرافیہ، قانون اور جدید ٹیکنالوجی سب ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔