ویڈا کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے مالی وسائل ختم ہو چکے ہیں اور ایندھن کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث سروس مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

کمپنی کے مطابق 29 جولائی 2026 کو عدالت نے پی ایم اے کو اپنے ذرائع سے میٹرو بس سروس کے لیے ایندھن فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم عدالتی حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

ویڈا کا کہنا ہے کہ اس نے 31 جولائی اور 4 اگست کو پی ایم اے کو تحریری طور پر صورت حال سے آگاہ کیا، تاہم دونوں مواقع پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

نوٹس کے مطابق معاملے پر 6 اگست کو ویڈا اور پی ایم اے کے درمیان اجلاس بھی ہوا، جس میں کمپنی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس کے پاس میٹرو بس سروس کے آپریشنز جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔

پی ایم اے کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت کی واضح ہدایات کے بغیر اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس کے اختتام پر پی ایم اے کی جانب سے مسئلے کا حل تجویز کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم ویڈا کے مطابق اس کے بعد سے ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے کوئی عملی انتظام نہیں کیا گیا۔

ویڈا نے اپنے حتمی نوٹس میں کہا ہے کہ اگر پی ایم اے عدالتی حکم کے مطابق اپنے ذرائع سے ایندھن کی فوری اور بلاتعطل فراہمی شروع نہیں کرتی تو کمپنی سروس جاری رکھنے کے قابل نہیں ہوگی، جس کے نتیجے میں 11 اگست سے لاہور میٹرو بس سروس کے تمام آپریشنز معطل کر دیے جائیں گے۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ سروس کی ممکنہ معطلی پی ایم اے کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کا نتیجہ ہوگی اور اس میں ویڈا کی جانب سے کسی کوتاہی یا عدم دلچسپی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

ویڈا نے اس معاملے میں اپنے معاہداتی، قانونی اور ثالثی سے متعلق تمام حقوق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی فراہمی کا تنازع مزید قانونی کارروائی کی جانب بڑھ سکتا ہے۔