آج کل فوری نتائج حاصل کرنے کے جنون میں لوگ ایسی ادویات استعمال کر رہے ہیں جو اصل میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تیار کی گئی تھیں۔ وزن کم کرنے کا یہ رجحان اب صرف جم تک محدود نہیں رہا بلکہ کلینکس کے برائیڈل پیکجز کا بھی حصہ بن چکا ہے۔ شادی سے پہلے پرفیکٹ نظر آنے کا سماجی دباؤ نوجوان نسل کو ایسے خطرناک انجکشنز کی طرف دھکیل رہا ہے جن کے سائیڈ ایفیکٹس زندگی بھر کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

جہاں پہلے شادی سے قبل صرف فیشل اور فٹنس پر توجہ دی جاتی تھی، اب وہاں اوزیمپک اور مانجارو جیسے مہنگے انجکشنز اتنے عام ہو چکے ہیں کہ انہیں باقاعدہ پری ویڈنگ ٹریٹمنٹ کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔

لیکن کیا آپ نے اوزیمپک فیس کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں جلد اپنی لچک کھو کر لٹک جاتی ہے، چہرہ تھکا ہوا، عمر سے زیادہ بڑا اور بے رونق نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم میں پٹھوں کی کمی ہونے لگتی ہے جس سے شدید کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے شارٹ کٹس گردوں، جگر اور معدے پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اصل مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ اگر کوئی شخص ذرا سا موٹا ہو تو طنز کا سامنا کرتا ہے، اور اگر وزن کم ہو جائے تو سوال اٹھتے ہیں کہ کہیں کوئی بیماری تو نہیں۔ رنگ، جسمانی ساخت اور وزن جیسے عوامل کو ہر وقت پرکھنے کا یہ رویہ افراد میں احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کو بڑھا رہا ہے۔

اسی غیر ضروری دباؤ کا فائدہ مختلف کمپنیاں اٹھا رہی ہیں اور لوگ معاشرتی معیار پر پورا اترنے کی کوشش میں اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر ایسے شارٹ کٹس کی طرف جا رہے ہیں۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوبصورتی صرف جسمانی ساخت یا چہرے سے نہیں بلکہ ایک صحت مند طرزِ زندگی سے جنم لیتی ہے۔ چند دنوں کی تعریف یا وقتی نتائج کے لیے اپنی طویل مدتی صحت کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ شارٹ کٹس کے بجائے متوازن غذا اور مثبت طرزِ زندگی کو اپنایا جائے۔