ین یوزین کئی برسوں سے صحراؤں میں شجر کاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ مشن اس وقت شروع کیا جب ایک امریکی شہری رونالڈ ساکولسکی نے انہیں 5 ہزار ڈالرز کا عطیہ دیا تھا۔
چین کے صوبے شانشی کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی ین یوزین کی شادی 1980 کی دہائی میں Mu Us Desert میں رہنے والے ایک شخص سے ہوئی تھی۔ یہ صحرا چین کے چار بڑے صحراؤں میں شمار ہوتا ہے۔
شادی کے بعد ین یوزین اور ان کے شوہر نے خشک سالی اور ریت کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے شجر کاری شروع کردی۔ دونوں نے شدید موسمی حالات اور مشکلات کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھا۔
1999 میں چینی سرکاری میڈیا ادارے چائنہ سینٹرل ٹیلی وژن نے ین یوزین کی جدوجہد پر ایک رپورٹ نشر کی، جسے دیکھ کر اس وقت چین کے صوبہ ہینان میں انگریزی پڑھانے والے امریکی شہری رونالڈ ساکولسکی بہت متاثر ہوئے۔
انہوں نے ین یوزین کو 5 ہزار ڈالرز عطیہ کیے تاکہ وہ زیادہ بیج خرید کر شجر کاری کا عمل جاری رکھ سکیں۔
Yin Yuzhen, who has devoted her life to fighting desertification in north China, drew the attention of Chinese netizens with her search for her American friend, Ronald Sakolsky, who donated her 5,000 USD to support tree planting 27 years ago. On May 17, she finally reunited with… pic.twitter.com/md8LP722qm
— China Xinhua News (@XHNews) May 21, 2026
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ین یوزین نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ اس عطیے نے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے یہ رقم بیج خریدنے اور مزید درخت لگانے کے لیے استعمال کی۔
انہوں نے بتایا کہ جب رونالڈ ساکولسکی پہلی مرتبہ وہاں آئے تو انہوں نے صحرا کی پھیلی ہوئی زرد ریت دیکھ کر کہا تھاکہ ناممکن… ناممکن۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی بیج اب 50 ہزار سے زائد بڑے درختوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور صحرا کا ایک بڑا حصہ سرسبز جنگل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں ین یوزین نے اس اسکول سے رابطہ کیا جہاں رونالڈ ساکولسکی برسوں قبل تدریس کرتے تھے، اور ان سے امریکی شہری کو تلاش کرنے میں مدد مانگی۔
17 مئی کو اسکول کے نائب پرنسپل نے رونالڈ ساکولسکی سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کے عطیے کو ایک مکمل جنگل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ رونالڈ ساکولسکی چین کا دورہ کب کریں گے، تاہم ین یوزین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد وہاں آئیں گے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے کہ ان کی مدد نے کس طرح ایک صحرا کو زندگی بخشی۔







