اس سلسلے میں عماد وسیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صحافی ریاض الحق کی ایک ویڈیو ری پوسٹ کی، جس میں ایڈووکیٹ عالیہ زرین عباسی نے دعویٰ کیا کہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے عماد وسیم پر زبردستی اسقاطِ حمل (ابارشن) کروانے کا الزام مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
کرکٹر عماد وسیم کی وکیل ان کی سابقہ اہلیہ کے لگائے گئے الزامات پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز اور جواب۔ pic.twitter.com/YZtqUPrSOp
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) February 22, 2026
ایڈووکیٹ عالیہ زرین عباسی کے مطابق عماد وسیم کی قانونی ٹیم نے اس معاملے سے متعلق تمام ضروری میڈیکل ریکارڈ حاصل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نومبر 2023 میں ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکا روانگی کا فیصلہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے کیا گیا تھا، جس کی تصدیق متعلقہ ڈاکٹرز بھی کر سکتے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ نومبر 2023 میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے دوروں کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے، جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ایڈووکیٹ کے مطابق نومبر 2024 میں باہمی اختلافات کے باعث دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی۔ اس وقت ثانیہ اشفاق حاملہ تھیں، لہٰذا بچے کی پیدائش تک انتظار کیا گیا اور اس دوران تمام اخراجات عماد وسیم نے خود برداشت کیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جولائی 2025 میں بیٹے کی پیدائش کے بعد تینوں بچوں کی تمام ذمہ داریاں بھی عماد وسیم ہی نبھا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے حال ہی میں سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے شادی کی ہے۔ شادی کی ویڈیو ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔






