ناروے کی نوبل کمیٹی نے 2025 کا نوبل امن انعام وینزویلا کی ماریہ کورینا ماچادو کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انعام ان کی جمہوری حقوق کی بحالی اور آمریت سے پرامن تبدیلی کی جدوجہد کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ماچادو نے وینزویلا کی سیاسی مخالفت کو متحد کیا اور ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے بے مثال ہمت کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق وینزویلا ایک وقت میں ایک خوشحال اور نسبتاً جمہوری ملک تھا مگر آج وہاں ایک سخت آمری حکمرانی قائم ہے۔ ملک میں انسانی بحران اور معاشی زوال نے عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ لاکھوں لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ اپنے ذاتی مفادات میں مصروف ہے۔ ریاست کی طاقت شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ملک سے تقریباً آٹھ ملین لوگ بیرون ملک جا چکے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی، قانونی پابندیاں اور قید کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبایا جا رہا ہے۔

ماریہ کورینا ماچادو نے سوماٹے نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جو 20 سال سے جمہوری ترقی کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ گولیوں کے بجائے بیلٹ کا انتخاب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے عدلیہ کی خودمختاری، انسانی حقوق اور عوامی نمائندگی کے حق میں آواز بلند کی۔

2024 کے انتخابات میں وہ صدراتی امیدوار تھیں مگر حکمرانوں نے ان کی کامیابی روک دی۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے پارٹی کے امیدوار کی حمایت کی۔ ملک بھر میں لاکھوں رضاکار انتخابی مبصرین کے طور پر کام کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تاکہ انتخابات کی شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ سب کام خطرات کے باوجود پرامن اور جمہوری انداز میں کیے گئے۔


مخالفین نے ملک کے ہر حلقے سے ووٹوں کی گنتی کی اور اسے عوام کے سامنے پیش کیا جس سے ظاہر ہوا کہ وہ انتخاب جیت چکے ہیں۔ مگر حکمرانوں نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

مزید براں دنیا بھر میں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے اور آمرانہ رجیم زور پکڑ رہے ہیں۔ آزاد میڈیا کو دبایا جا رہا ہے، ناقدین کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اسی ماحول میں ماچادو کی جرت نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ گزشتہ سال انہیں زندگی کے سنگین خطرات کے باوجود ملک میں چھپ کر رہنا پڑا۔ ان کا فیصلہ ملک میں رہ کر جدوجہد جاری رکھنے کا بے مثال جذبہ ہے۔

نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ماچادو نے وہ تین بنیادی اصول پورے کیے جو نوبل امن انعام کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے وینزویلا کی سیاسی مخالفت کو متحد کیا، عسکریت پسندی کی مخالفت کی اور پرامن جمہوری تبدیلی کی حمایت کی۔

ماچادو نے یہ ثابت کیا کہ جمہوریت کے اوزار امن کے اوزار بھی ہیں۔ وہ آزادی، حقوق اور آواز کے احترام کی امید کی علامت ہیں۔ ان کی جدوجہد یہ پیغام دیتی ہے کہ امن اور جمہوریت ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔

ماریہ کورینا ماچادو کی قربانی اور ثابت قدمی دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ آزادی کے لیے لڑائی کبھی آسان نہیں ہوتی مگر پرامن جدوجہد سے تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے ہمیں یاد دلایا کہ آزادی کبھی بھی محض تحفہ نہیں بلکہ مسلسل محنت اور جرات سے حاصل کی جاتی ہے۔