عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ امتحانات کے دوران لائف اسٹائل یا کھانے پینے کی بات کرنا وقت کا ضیاع ہے، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا براہِ راست تعلق دماغی کارکردگی سے ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ بچے جو امتحان والے دن مناسب ناشتہ کر کے جاتے ہیں، ان کی کارکردگی خالی پیٹ جانے والوں کے مقابلے میں بہتر دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتے میں زیادہ میٹھی چیزوں کے بجائے ایسی غذا شامل ہونی چاہیے جو جسم کو دیرپا توانائی فراہم کرے، جیسے آٹے کا پراٹھا، دلیہ، دہی یا انڈے، تاکہ امتحان کے دوران دماغ مسلسل متحرک اور یکسو رہے۔

فوکس اور توجہ کی بات کی جائے تو پانی کا مناسب استعمال بھی انتہائی ضروری ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق جو طلبہ امتحانی ہال میں اپنے ساتھ پانی کی بوتل رکھتے ہیں، ان کی کارکردگی میں اوسطاً 5 فیصد بہتری دیکھی گئی ہے۔ چائے اور کافی ایک حد تک مفید ہو سکتی ہیں، لیکن انرجی ڈرنکس اور سافٹ ڈرنکس میں موجود زیادہ شوگر وقتی طور پر توانائی تو دیتی ہے، مگر بعد میں اچانک تھکن اور توجہ میں کمی کا سبب بنتی ہے۔

اسی طرح نیند ایک ایسا عنصر ہے جس پر سمجھوتہ کرنا براہِ راست یادداشت کو متاثر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو بچے امتحانات کے دنوں میں کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری کرتے ہیں، ان کا دماغ معلومات کو بہتر انداز میں یاد رکھتا اور امتحان میں دہرانے کی صلاحیت زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

اگر مسلسل پڑھائی سے دماغ تھک جائے تو زبردستی کتاب کے سامنے بیٹھنے کے بجائے 15 منٹ کی چہل قدمی یا مختصر وقفہ لینا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے توانائی بحال ہوتی ہے اور ذہن دوبارہ متحرک ہو جاتا ہے۔

مختصراً، امتحانات صرف نصابی کتابوں کا نام نہیں۔ محنت ضرور کریں، لیکن اپنی صحت کی قیمت پر نہیں۔