اطلاعات کے مطابق، مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے رہائشی وکرم کمار ناگ دیو نے 2020 میں ہندو رسم و رواج کے تحت نکیتا سے شادی کی تھی۔ شادی کے فوراً بعد نکیتا انڈیا چلی گئیں، تاہم چند مہینوں بعد ویزا کے مسائل بتا کر 9 جولائی 2020 کو اٹاری بارڈر پر چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد وکرم کی جانب سے کسی بھی قسم کا رابطہ یا واپسی کی کوشش نہیں کی گئی۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق، وکرم نے انڈیا میں ایک اور خاتون شیوانگی ڈنگرہ سے منگنی کرلی ہے، جس کے بعد نکیتا اور ان کے خاندان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

نکیتا نے اپنے ویڈیو اور تحریری پیغام میں عدالت سے انصاف اور شوہر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وکرم نے اپنی پہلی بیوی کو بغیر طلاق کے چھوڑا اور دوسرے رشتے کی تیاری کی، جو قانونی اور سماجی لحاظ سے دونوں ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اس معاملے پر سندھ پینچایت ثالثی اینڈ لیگل کونسلنگ سینٹر نے وکرم اور اس کی منگیتر دونوں کو نوٹس جاری کیے، مگر کسی مفاہمت پر رسائی نہ ہو سکی۔

30 اپریل 2025 کو جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ شادی پاکستان میں ہوئی اور نکیتا پاکستانی شہری ہیں، اس لیے قانونی دائرہ اختیار پاکستان کا ہے اور پاکستان میں ہی کارروائی ضروری ہے۔

اس واقعے نے دو ممالک کے قوانین اور ویزا نظام کے بیچ پھنسے زوجین کے مستقبل کے سوالات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ کیا صرف تحریری درخواستیں اور میڈیا انکشافات سے انصاف ممکن ہوگا، یا بین الاقوامی قانونی معاونت ضروری ہے؟

نکیتا کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور مختلف انڈیا میڈیا رپورٹس میں اس کیس کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔