تفصیلات کے مطابق تقریب میں دو کیٹگریز پروفیشنل کیٹگری اور اسٹوڈنٹس کیٹگری رکھی گئی تھیں جن میں متعدد شرکاء نے حصہ لیا۔ ججز نے کیکس کا جائزہ ذائقے، پریزنٹیشن اور بیکنگ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر لیا۔
پاکستان میٹرز کےنمائندے فہد علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کی میڈیا ایگزیکیٹیو تحریم قاضی نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نوجوان بیکرز کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید پیشہ ورانہ انداز میں نکھارنے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب طلبہ ایسے اداروں سے ڈپلومہ حاصل کرتے ہیں جہاں ان کی کارکردگی کا جائزہ پروفیشنل ججز لیتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ انہیں انڈسٹری میں شناخت بھی ملتی ہے۔
تحریم قاضی کا کہنا تھا کہ ایتھم جیسے مستند ادارے کا سرٹیفکیٹ مستقبل کے کیریئر میں مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے اور جب کوئی طالب علم اس سرٹیفکیٹ کے ساتھ عملی میدان میں آتا ہے تو ادارے اسے ایک بااعتماد اور تربیت یافتہ پروفیشنل کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اسٹوڈنٹس کیٹگری میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ نے پاکستان میٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ مختلف ورکشاپس اور کورسز میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مختلف ڈیزائنز اور فلیورز کے تجربات کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں اپنے بیکنگ آرٹ کو مزید نکھار سکیں۔
پروفیشنل کیٹگری کی ونر اریبہ عامر نے بتایا کہ انہیں اس مقابلے کے بارے میں معلومات انسٹاگرام کے ذریعے ملیں اور یہ ان کے لیے ایک نیا اور اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے "ویڈنگ تھیم" کے تحت تین ٹائر کیک تیار کیا تھا، جس میں سفید اور گولڈن رنگوں کے امتزاج سے رائل لک دیا گیا۔ کیک کے نچلے حصے میں ایڈیبل کارمل فرنچ فلیور، درمیانی ٹائر میں بٹر کریم جبکہ اوپر فنڈنٹ کا ڈمی ٹائر رکھا گیا تھا۔
اریبہ عامر نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائن آرڈرز پر کیک بنا رہی ہیں اور مستقبل میں اپنا ذاتی برانڈ قائم کرنے کی خواہشمند ہیں۔
مقابلے کے اختتام پر دونوں کیٹگریز میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کا اعلان کیا گیا۔ پوزیشن ہولڈرز کو اسناد سے نوازا گیا، جب کہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے شرکاء کو کیش انعام بھی دیا گیا۔
شرکاء نے مقابلے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سرگرمی نے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا بلکہ آگے بڑھنے کا نیا حوصلہ بھی دیا ہے۔







