ماہرین کے مطابق چائے پینے کے بعد بچی ہوئی چائے کی پتی کو ضائع کرنے کے بجائے روزمرہ زندگی میں مختلف کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچی ہوئی چائے کی پتی کو فریج میں رکھنے سے کھانے کی بدبو ختم ہو جاتی ہے۔ اسے جوتوں میں بھی رکھا جا سکتا ہے تاکہ بدبو دور ہو۔ کپڑے کے ساشے میں رکھ کر الماریوں اور درازوں میں رکھنے سے کمرے اور کپڑوں میں قدرتی خوشبو آتی ہے۔

مزید یہ کہ بچی ہوئی چائے کی پتی کو دہی یا شہد کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگایا جائے تو یہ مردہ جلد کو صاف کرتی ہے۔ ماہرین جلد کے مطابق چائے میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس جلد کو تازہ اور نرم بناتے ہیں۔

مزید براں چائے کی پتی کو پانی میں ابال کر ٹھنڈا کیا جائے اور شیمپو کے بعد بالوں پر ڈالا جائے تو بال چمکدار اور نرم ہو جاتے ہیں۔ ماہرین بالوں کی دیکھ بھال کے مطابق یہ طریقہ خشکی کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خشک چائے کی پتی برتنوں کی صفائی میں بھی مؤثر ہے۔ اسے نرم رگڑ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس سے دیگچی، پین اور چولہے کے داغ بغیر کیمیکل کے صاف کیے جا سکتے ہیں۔


ماہرین صفائی کے مطابق خشک چائے کی پتی کو قالین یا کارپٹ پر چھڑکنے اور چند منٹ بعد ویکیوم کرنے سے قالین کی بدبو ختم ہو جاتی ہے اور تازگی آتی ہے۔

چائے کی پتی کو دوبارہ ابال کر اس کا پانی کپڑے، کاغذ یا انڈوں پر قدرتی بھورے رنگ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین دستکاری کے مطابق یہ طریقہ ونٹیج لک دینے کے لیے مفید ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چائے کی پتی کے یہ استعمال ماحول دوست، کم خرچ اور مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ عام افراد بھی گھریلو سطح پر اس پتی کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کریں تاکہ کچرے میں کمی لائی جا سکے۔