وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے ایبولا وائرس کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد پاکستان نے تمام ائیرپورٹس پر نگرانی اور اسکریننگ کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایبولا کا ایک کیس بھی عالمی خطرہ بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
وزارتِ قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ائیرپورٹس پر سخت حفاظتی پروٹوکول پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملک کو وائرس کے کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس کے مطابق ایبولا وائرس کا موجودہ پھیلاؤ اس وقت صرف افریقی ممالک کانگو اور یوگنڈا تک محدود ہے، جبکہ افریقہ سے باہر اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ افریقی ممالک کا سفر کرنے والے مسافروں کو روانگی سے قبل تمام سفری اور طبی ہدایات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق پاکستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں ماضی میں کبھی ایبولا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جبکہ متاثرہ افریقی ممالک کے ساتھ محدود سفری روابط کے باعث پاکستان میں وائرس پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم تصور کیا جا رہا ہے۔
تاہم عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کے تحت نگرانی اور حفاظتی تیاریوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، اگرچہ فی الحال کسی قسم کی سفری پابندیاں عائد کرنے کی سفارش نہیں کی گئی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ تمام حفاظتی اقدامات وائرس کے حالیہ پھیلاؤ کے تناظر میں پیشگی احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو وبائی امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن اور مؤثر اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایبولا اور ہنٹا وائرس کے خطرات، سعودی عرب نے زائرین کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا
وزارتِ صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اس وقت عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
تمام صوبوں اور بارڈر ہیلتھ سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ وزارتِ صحت اور اس کے ماتحت اداروں کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان ایبولا وائرس کی تشخیص کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔






