طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت کو کولڈ اسٹیمولس ہیڈیک کہا جاتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب منہ کی چھت یا حلق کا پچھلا حصہ اچانک شدید ٹھنڈک کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خون کی شریانیں پہلے سکڑتی ہیں اور پھر تیزی سے پھیلتی ہیں، جس سے مختصر مگر شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کیفیت بعض افراد میں موروثی ہو سکتی ہے، یعنی اگر والدین کو آئس کریم کھانے سے سر درد ہوتا ہے تو بچوں میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کو پہلے سے آدھے سر کے درد یعنی مائیگرین کی شکایت ہو، ان میں برین فریز زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی علامات پر خاص توجہ دینے اور بار بار مسئلہ ہونے کی صورت میں طبی مشورہ لینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

برین فریز سے بچاؤ کے لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ٹھنڈی اشیا آہستہ آہستہ کھائی جائیں تاکہ منہ کا درجہ حرارت اچانک نہ گرے۔ اگر درد شروع ہو جائے تو زبان کو منہ کی چھت سے لگا کر یا نیم گرم مشروب پی کر آرام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مزید تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سائنس دانوں نے برین فریز کو مائیگرین کی تحقیق کے لیے ایک ماڈل کے طور پر استعمال کیا ہے، کیونکہ دونوں کیفیتوں میں ایک ہی اعصابی نظام، خصوصاً ٹرائی جیمینل اعصاب، فعال ہوتا ہے۔ اس سے سر درد کی وجوہات اور علاج کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑی تعداد میں افراد مائیگرین یا بار بار سر درد کا شکار ہیں، لیکن ان میں سے نصف سے زیادہ لوگ طبی مشورہ نہیں لیتے، حالانکہ اس کا مؤثر علاج موجود ہے۔