پوسٹ میں اس صارف نے لکھا کہ اس کے والدین ستر برس سے زائد عمر کے ہیں، پاکستان میں اپنے ذاتی گھر میں رہتے ہیں۔ وہ انہیں ہر ماہ اخراجات کے لیے ڈھائی لاکھ روپے بھیجتا ہے۔ چونکہ گھر ان کا اپنا ہے، اس لیے کرایہ نہیں دینا پڑتا۔ ان کا بجلی کا بل تقریباً 20 سے 25 ہزار روپے اور گھر کے دیگر اخراجات پر تقریباً 30 ہزار ماہانہ خرچ آتا ہے۔

اس کے مطابق اس کے والدین سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا خرچ نہ تو خاص کھانا پکوان پر آتا ہے، نہ دوائیوں پر، نہ کار پر اور نہ باہر نکلنے پر، لیکن پھر بھی ہر ماہ کے اختتام پر ان کے پاس پیسے ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر کرایہ اور بل ملا کر تقریباً 50 ہزار ہوں، تو ان کے پاس دو لاکھ روپے بچنے چاہئیں۔ آخر یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟

اس نے آخر میں لکھا کہ وہ اپنے والدین سے براہِ راست نہیں پوچھ سکتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ انہیں برا لگے، انہوں نے مجھ سے کبھی نہیں پوچھا کہ جب میں نے ان سے قرض لیا تو مجھے کیوں ضرورت تھی، اس لیے میں بھی ان سے سوال نہیں کرنا چاہتا۔بس سوشل میڈیا صارفین سے رائے لینا چاہتا ہوں۔

اس پوسٹ کے سامنے آتے ہی ریڈیٹ کے صارفین میں بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے تنقید کی کہ اگر وہ اتنی بڑی رقم بھیج سکتا ہے تو اسے سوشل میڈیا پر شکایت کرنے کی ضرورت نہیں، جب کہ بہت سے صارفین نے اس مثبت مشورے دیے۔

ایک نے لکھا کہ وہ دیکھے کہ کہیں کوئی دوسرا شخص اس کے والدین سے پیسے تو نہیں لے رہا۔ کسی نے کہا کہ ستر سال سے زائد عمر میں دوائیاں نہ لینا غیر معمولی بات ہے، ہو سکتا ہے وہ اپنی بیماریوں کا ذکر نہیں کرتے تاکہ بیٹا پریشان نہ ہو۔

کچھ صارفین نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ والدین وہ رقم رشتہ داروں یا بہن بھائیوں کی مدد میں خرچ کر رہے ہوں گے۔ شاید وہ اپنے بہن بھائیوں یا ان کے بچوں کو تحفے دیتے ہوں، یا انہیں کھانے پر بلاتے ہوں۔ ان کے لیے یہ خوشی کا باعث ہوگا۔ اگر آپ کو مالی دباؤ ہے تو نرمی سے بات کریں، مگر ان کے اخراجات پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔

ایک اور صارف نے موجودہ معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں صرف پچاس ہزار روپے میں گزارا ممکن نہیں۔ اسی کے ساتھ اس صارف نے مہنگائی کو یوں بیان کیا کہ بجلی پچیس ہزار، گیس تیس ہزار، ایندھن اور گھریلو مدد تیس تیس ہزار، گروسری ساٹھ ہزار یہ سب ملا کر تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتے ہیں۔

پھر کپڑوں، دوائیوں، ہسپتال کے چکروں، پانی کے بل اور دیگر اخراجات کو بھی شامل کریں تو دو لاکھ روپے کچھ زیادہ نہیں رہتے۔

کچھ لوگوں نے عملی مشورے بھی دیے کہ اگر مالی دباؤ ہو تو والدین کو احترام کے ساتھ بتایا جائے کہ اب ڈھائی لاکھ کے بجائے دو لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ بھیجے جائیں گے۔ اگر وہ کہیں کہ یہ کافی نہیں، تب وجہ دریافت کی جا سکتی ہے۔

ایک صارف نے ذاتی تجربہ شیئر کیا کہ وہ بھی اپنے والدین کو باقاعدگی سے رقم بھیجتا ہے۔ انہیں اس کی ضرورت نہیں لیکن وہ خوش ہیں کہ میں بھیجتا ہوں۔ میری ماں اکثر یہ رقم بچا لیتی ہیں یا کسی ضرورت مند رشتہ دار کی مدد کر دیتی ہیں۔ میں نے کبھی ان سے نہیں پوچھا کہ وہ پیسے کہاں خرچ کرتی ہیں، کیونکہ اس سے انہیں خوشی ملتی ہے۔

کچھ لوگوں نے ہلکے پھلکے انداز میں تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے مذاق میں لکھا کہ آپ اپنے امی ابو کا نمبر دیں، میں چاہوں گا کہ وہ مجھے گود لے لیں۔

دوسروں نے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر روشنی ڈالیتے ہوئے کہا کہ بجلی کا پچیس ہزار بل تو کم ہے۔ گرمیوں میں اے سی چلانے سے ساٹھ ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ گروسری کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ صرف بنیادی ضرورتوں کے لیے ساٹھ ہزار لگ جاتے ہیں

کچھ صارفین کے مطابق ایک بزرگ جوڑے کے لیے آرام دہ زندگی کے لیے تین لاکھ روپے ماہانہ خرچ غیر حقیقی نہیں ہے، خاص طور پر بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں۔