ماہرین کے مطابق اگر بیماری کی بروقت پہچان ہو جائے تو علاج اور روزمرہ زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ہر فرد میں اس کی ابتدائی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر کچھ نشانیاں عام طور پر سامنے آتی ہیں۔
پارکنسنز کی ایک عام ابتدائی علامت ہاتھوں یا انگلیوں میں ہلکا کپکپانا ہے۔ یہ کپکپی زیادہ تر اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ہاتھ آرام کی حالت میں ہوں، اور بعض اوقات انگلیوں کے درمیان کسی چیز کو گھمانے جیسا احساس ہوتا ہے۔
جسمانی حرکات کا آہستہ ہو جانا بھی ایک اہم علامت ہے۔ کپڑوں کے بٹن لگانا، چلنا یا دانت صاف کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ وقت لینے لگتا ہے اور کام مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔
چہرے کے تاثرات میں کمی آنا بھی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے۔ کچھ افراد کم پلکیں جھپکتے ہیں یا چہرے پر خوشی اور غم کے تاثرات کم ظاہر ہوتے ہیں۔
پٹھوں میں اکڑاؤ پارکنسنز کی ایک اور عام علامت ہے۔ بازو یا ٹانگیں سخت محسوس ہو سکتی ہیں، جس سے چلنے پھرنے میں دشواری اور بعض اوقات درد بھی ہوتا ہے۔
جسمانی توازن کا متاثر ہونا، بار بار لڑکھڑانا اور جسم کا جھکاؤ بدل جانا بھی ابتدائی علامات میں شامل ہیں۔ بعض افراد چلتے وقت بازوؤں کو کم ہلاتے ہیں یا خودکار حرکات میں کمی آ جاتی ہے۔
کچھ علامات کا تعلق حرکت سے نہیں ہوتا، جیسے آواز کا آہستہ ہو جانا، بولنے کے انداز میں تبدیلی، لکھائی کا چھوٹا ہو جانا یا نیند میں خلل۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علامات ایک ساتھ نظر آنے لگیں تو انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بروقت ماہرِ اعصاب سے رجوع کرنے سے بیماری کی جلد تشخیص اور بہتر دیکھ بھال ممکن ہو سکتی ہے۔







