بین الاقوامی طبی تحقیق کے نتائج جو حال ہی میں ایک مستند سائنسی جریدے میں شائع ہوئے، جس میں تقریباً دو دہائیوں تک بڑی عمر کے افراد کی نیند کے معمولات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں 56 سال یا اس سے زائد عمر کے 1300 سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا، جن کی روزمرہ نیند کی عادات کو جدید پہننے کے قابل آلات کے ذریعے مسلسل مانیٹر کیا گیا۔
جن افراد میں دن کے وقت طویل یا بار بار نیند لینے کا رجحان پایا گیا، ان میں مجموعی صحت کے مسائل اور اموات کا خطرہ نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔ خاص طور پر صبح کے اوقات میں سونے والے افراد میں دل کی بیماریوں، اعصابی نظام کی خرابی اور جسم میں سوزش جیسے مسائل کی شرح زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دن میں ضرورت سے زیادہ سونا اکثر خود کوئی بیماری نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی پوشیدہ طبی مسئلے کی علامت ہو سکتا ہے، جیسے کہ نیند کے نظام میں خرابی، دائمی تھکن یا دیگر پیچیدہ امراض، اگر کوئی شخص معمول سے زیادہ دن میں سونے لگے تو اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختصر دورانیے کی جھپکی، جسے سائنسی طور پر پاور نیپ کہا جاتا ہے، جسم کو توانائی فراہم کرنے اور ذہنی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، تاہم طویل یا بار بار نیند لینا صحت کے لیے خطرے کی علامت بن سکتا ہے۔
اس تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج براہِ راست وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتے بلکہ صرف ایک تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ نیند کے معمولات کو متوازن رکھنا مجموعی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ماہرین صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ نیند کے شیڈول پر توجہ دیں، رات کی مناسب نیند کو ترجیح دیں اور دن کے وقت غیر ضروری طور پر زیادہ سونے سے گریز کریں تاکہ طویل مدت میں صحت مند زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔







