ماہرین کے مطابق 1860 کی دہائی میں جب ابتدائی ٹائپ رائٹرز ایجاد ہوئے تو ان میں حروف تہجی کو الفابیٹیکل ترتیب میں رکھا گیا تھا۔ تاہم جلد ہی ایک بڑا مسئلہ سامنے آیا، ٹائپ رائٹر کے میکانیکل بازو تیزی سے ٹائپنگ کے دوران آپس میں ٹکرا کر پھنس جاتے تھے، جس سے مشین جام ہو جاتی تھی اور ٹائپسٹ کو انہیں ہاتھ سے درست کرنا پڑتا تھا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے امریکی موجد کرسٹوفر لیتھم شولز نے QWERTY لے آؤٹ متعارف کروایا، جس میں عام طور پر ایک ساتھ استعمال ہونے والے حروف جیسے  ٹی ایچ  اور  ای آر  کو ایک دوسرے سے دور رکھا گیا۔

اس ترتیب کا مقصد ٹائپنگ کی رفتار کم کرنا نہیں بلکہ مشین کے پرزوں کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کا وقت دینا تھا، تاکہ ٹکراؤ اور جام ہونے سے بچا جا سکے۔

وقت کے ساتھ یہ لے آؤٹ دنیا بھر میں مقبول ہو گیا اور ٹائپنگ کا معیار بن گیا۔ آج جب کہ ڈیجیٹل کی بورڈز میں میکانیکل جام ہونے کا کوئی خطرہ موجود نہیں، اس کے باوجود QWERTY لے آؤٹ بدستور استعمال ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ  مسل میموری  ہے، کیونکہ اربوں افراد اس ترتیب کے عادی ہو چکے ہیں۔ اگر آج اسے تبدیل کیا جائے تو عالمی سطح پر ٹائپنگ کی رفتار اور پیداواریت متاثر ہو سکتی ہے۔

یوں QWERTY کی بورڈ ایک ایسا تاریخی حل بن چکا ہے جو وقت کے ساتھ عادت میں بدل گیا اور آج بھی جدید ٹیکنالوجی کا حصہ ہے۔