ماہرِ تاریخ مارک مورس کے مطابق قلعوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دفاعی قلعہ بندی اور شاہی رہائش، دونوں خصوصیات کو یکجا کرتے ہیں۔ یہی امتزاج انہیں محض قلعوں یا محلات کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ بناتا ہے۔
اگرچہ قلعوں کا تصور عموماً یورپ سے جوڑا جاتا ہے، تاہم جاپان، انڈیا، مراکش، میکسیکو اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں بھی ایسے تاریخی قلعے موجود ہیں جو اپنے منفرد فنِ تعمیر اور تاریخ کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔
ہیمجی قلعہ، جاپان
جاپان کے شہر ہیمجی میں واقع ہیمجی قلعہ جاپانی جاگیردارانہ دور کے فنِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ سفید رنگ کی وجہ سے اسے ’وائٹ ہیرون کاسل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 17ویں صدی کے آغاز میں مکمل ہونے والا یہ قلعہ جاپان کا قومی خزانہ اور عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔

پیلس آف دی گرینڈ ماسٹر، یونان
یونان کے جزیرے روڈز پر واقع یہ شاندار قرونِ وسطیٰ کا قلعہ ابتدا میں بازنطینی قلعہ بندی کے طور پر تعمیر ہوا، تاہم بعد میں نائٹس آف سینٹ جان نے اسے گوتھک طرز کے شاہی قلعے میں تبدیل کردیا۔ اطالوی قبضے کے دوران بینیٹو مسولینی نے بھی اسے تعطیلاتی رہائش کے طور پر استعمال کیا۔

نیوشوان اسٹائن، جرمنی
جرمنی کا نیوشوان اسٹائن قلعہ دنیا کے سب سے زیادہ رومانوی قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ باویریا کے بادشاہ لڈوِگ دوم نے 19ویں صدی میں اسے تعمیر کروایا۔ برف پوش الپس کے درمیان واقع یہ قلعہ پریوں کی کہانیوں کے محل جیسا منظر پیش کرتا ہے اور متعدد فلموں میں بھی دکھایا جا چکا ہے۔

الکازار آف سیگوویا، اسپین
وسطی اسپین میں چٹانی پہاڑی پر قائم الکازار آف سیگوویا یورپ کے خوبصورت ترین قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ رومی دور کے ایک قلعے سے شروع ہونے والی یہ عمارت وقت کے ساتھ قرونِ وسطیٰ کے شاندار شاہی قلعے میں تبدیل ہوئی۔ ملکہ ازابیلا سمیت اسپین کے کئی اہم شاہی کرداروں کا تعلق اس قلعے سے رہا ہے۔

پینا پیلس، پرتگال
پرتگال کے شہر سِنٹرا کے قریب پہاڑی پر قائم پینا پیلس اپنے شوخ رنگوں اور مختلف طرزِ تعمیر کے امتزاج کی وجہ سے منفرد ہے۔ یہاں گوتھک، مورش اور نشاۃ ثانیہ کے فنِ تعمیر کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ سرخ اور زرد رنگ کی عمارت اسے دنیا کے دیگر قلعوں سے نمایاں کرتی ہے۔

امبر فورٹ، انڈیا
انڈیا کے شہر جے پور کے قریب واقع امبر فورٹ مغل اور راجپوت طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔ 17ویں صدی میں تعمیر ہونے والے اس قلعے کے اندر شاہی محلات، دربار ہال، صحن اور خوبصورت عمارتیں موجود ہیں۔ قلعہ پہاڑی پر قائم ہے جب کہ اس کے نیچے موتا جھیل واقع ہے۔

کسار آف آیت بن حدّو، مراکش
صحرائے صحارا کے کنارے مٹی کی اینٹوں سے بنا آیت بن حدّو مراکش کے تاریخی فنِ تعمیر کی شاندار مثال ہے۔ یہ قلعہ نما بستی ’گیم آف تھرونز‘، ’گلیڈی ایٹر‘ اور دیگر عالمی فلموں اور ڈراموں کی عکس بندی کے لیے بھی استعمال ہوچکی ہے۔ 17ویں صدی میں یہ مراکش سے سوڈان جانے والے تجارتی قافلوں کے لیے اہم پڑاؤ تھا۔

کالمار قلعہ، سویڈن
بحیرہ بالٹک کے کنارے واقع کالمار قلعے کی تاریخ 12ویں صدی تک پہنچتی ہے۔ بعد میں اسے شاہی رہائش گاہ میں تبدیل کیا گیا۔ آج یہ اسکینڈینیویا کے محفوظ ترین نشاۃ ثانیہ کے قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔

ایل مورو، پورٹو ریکو
سان خوان بے کے داخلی راستے پر واقع کاسٹیلو سان فلیپے ڈیل مورو 16ویں صدی میں اسپین نے تعمیر کیا تھا۔ سمندری چٹانوں، مضبوط دیواروں اور خندقوں سے گھرا یہ قلعہ کئی حملوں کے باوجود طویل عرصے تک ناقابلِ تسخیر رہا۔ آج یہ پورٹو ریکو کے اہم تاریخی مقامات میں شامل ہے۔

توپ کاپی محل، ترکیہ
استنبول میں واقع توپ کاپی محل تکنیکی طور پر محل ہے، لیکن اس کی مضبوط فصیلوں، دفاعی دروازوں اور محل وقوع کی وجہ سے اسے قلعہ نما شاہی کمپلیکس بھی سمجھا جاتا ہے۔
عثمانی سلاطین نے صدیوں تک اسے اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا۔ آج یہ ایک اہم عجائب گھر ہے جہاں عثمانی دور کے نوادرات اور شاہی خزانے محفوظ ہیں۔

ایڈنبرگ قلعہ، اسکاٹ لینڈ
ایک قدیم آتش فشانی چٹان پر قائم ایڈنبرگ قلعہ برطانیہ کی تاریخ کے اہم ترین قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس پر صدیوں کے دوران کم از کم 26 بڑے حملے کیے گئے۔
اسکاٹ لینڈ کے تاج کے تاریخی زیورات بھی یہاں محفوظ ہیں، جب کہ سالانہ رائل ایڈنبرگ ملٹری ٹیٹو اس قلعے کی عالمی شہرت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

ویاندن قلعہ، لکسمبرگ
لکسمبرگ میں 50 سے زائد قلعے موجود ہیں، تاہم ویاندن قلعہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ 11ویں سے 14ویں صدی کے دوران تعمیر ہونے والے اس قلعے میں رومی، رومانیسک اور گوتھک فنِ تعمیر کی جھلک ملتی ہے۔ ہر سال یہاں قرونِ وسطیٰ کے انداز کا میلہ بھی منعقد ہوتا ہے۔

نووگورود کریملن، روس
روس کے شہر نووگورود میں واقع ڈیٹینٹس یا کریملن قرونِ وسطیٰ کی روسی تاریخ کا اہم مرکز تھا۔ مضبوط فصیلوں اور دفاعی برجوں سے گھرا یہ قلعہ کبھی ایک طاقتور روسی جمہوریہ کا سیاسی مرکز ہوا کرتا تھا۔
شاتو دی شمبور، فرانس
فرانس کی وادی لوئر میں واقع شاتو دی شمبور قرونِ وسطیٰ کے دفاعی قلعوں سے شاہانہ نشاۃ ثانیہ کے محلات تک منتقلی کی شاندار مثال ہے۔
فرانسیسی بادشاہ فرانسوا اول نے اسے شکار گاہ کے طور پر تعمیر کروایا۔ اس میں تقریباً 440 کمرے اور ایک مشہور ڈبل ہیلکس سیڑھی موجود ہے، جسے لیونارڈو ڈا ونچی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

شوری قلعہ، جاپان
اوکیناوا میں واقع شوری قلعہ 450 سال سے زائد عرصے تک آزاد ریوکیو سلطنت کے شاہی دربار کا مرکز رہا۔ چینی فنِ تعمیر سے گہرا اثر رکھنے والے اس قلعے میں شاہی رہائش گاہیں، عبادت گاہیں اور شاندار دربار ہال شامل ہیں۔
بودیام قلعہ، انگلینڈ
انگلینڈ کے ایسٹ سسیکس میں واقع بودیام قلعہ قرونِ وسطیٰ کے روایتی قلعے کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔ گہری خندق، بلند فصیلیں اور نو دفاعی برج اسے ایک مکمل شاہی قلعے کا منظر دیتے ہیں۔ 1385ء میں تعمیر ہونے والا یہ قلعہ آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
کاسٹیلو ڈی چاپولتے پیک، میکسیکو
میکسیکو سٹی میں ایک بلند پہاڑی پر واقع چاپولتے پیک قلعہ براعظم امریکا کا واحد شاہی قلعہ قرار دیا جاتا ہے۔ 18ویں صدی میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت بعد میں شہنشاہ میکسیمیلیان کی رہائش گاہ بھی بنی۔ آج یہاں میکسیکو کا قومی عجائب گھرِ تاریخ قائم ہے۔
پردجاما قلعہ، سلووینیا
پردجاما قلعہ اپنی عمارت سے زیادہ اپنے حیران کن محلِ وقوع کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ایک بڑی قدرتی غار کے دہانے پر بلند چٹان کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے۔ قلعے کے اندر موجود خفیہ راستہ دفاع کے لیے انتہائی اہم تھا اور حملہ آوروں کے لیے اسے فتح کرنا انتہائی مشکل تھا۔

کاسٹیلو آراگونیزے، اٹلی
اٹلی کے خلیج نیپلز میں واقع یہ قلعہ دنیا کے قدیم ترین قلعہ نما مقامات میں شامل ہے۔ اس کی تاریخ پانچویں صدی قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔ یونانیوں، رومیوں اور بعد کے مختلف حکمرانوں نے اس جزیرے نما قلعے پر قبضہ رکھا۔ آج یہاں قدیم گرجا گھر، خانقاہیں، باغات اور فنونِ لطیفہ کے مراکز موجود ہیں۔
کراک دے شوالیے، شام
شام میں واقع کراک دے شوالیے دنیا کے عظیم ترین صلیبی قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ 12ویں صدی میں نائٹس آف سینٹ جان نے اسے تعمیر کیا تھا۔
دو مضبوط فصیلوں، خندق اور بلند پہاڑی پر قائم یہ قلعہ قرونِ وسطیٰ کی فوجی تعمیرات کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ شام کی جنگ کے دوران اسے نقصان بھی پہنچا، جس کے بعد اس کی بحالی کی کوششیں جاری رہیں۔

قلعے صرف عمارتیں نہیں، تاریخ کے زندہ باب ہیں
دنیا کے یہ قلعے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی تاریخ صرف کتابوں میں محفوظ نہیں ہوتی۔ ان بلند فصیلوں کے اندر جنگوں کی منصوبہ بندی ہوئی، بادشاہوں نے فیصلے کیے، شادیاں ہوئیں، شاہی بچوں کی پیدائش ہوئی اور بعض اوقات قتل و سازشوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
آج یہی قلعے سیاحت، فلم سازی، ثقافتی میلوں اور تاریخی تقریبات کے مراکز بن چکے ہیں۔ ان کی دیواریں اگرچہ خاموش ہیں، لیکن ان کے اندر چھپی داستانیں آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے تخیل کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔







