رپورٹ کے مطابق اگر صرف مریض ہی نہیں بلکہ ان کے اہل خانہ، دیکھ بھال کرنے والوں اور قریبی افراد پر پڑنے والے سماجی، نفسیاتی اور معاشی اثرات کو بھی شامل کیا جائے تو تقریباً ہر گھر کسی نہ کسی شکل میں کینسر سے متاثر ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 کے دوران دنیا بھر میں کینسر کے 2 کروڑ 6 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سالانہ اموات کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ 26 ہزار سے زائد افراد کینسر کے باعث جان کی بازی ہار رہے ہیں اور یہ بیماری دل کے امراض کے بعد دنیا کی دوسری بڑی قاتل بیماری بن چکی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک سالانہ نئے کیسز کی تعداد بڑھ کر ساڑھے 3 کروڑ (35 ملین) تک پہنچ سکتی ہے، جس سے دنیا کے صحت کے نظام پر بے پناہ دباؤ پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق امیر اور غریب ممالک کے درمیان کینسر کے علاج اور بقا کی شرح میں انتہائی واضح فرق موجود ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جہاں کینسر کی بروقت تشخیص اور جدید علاج دستیاب ہے، وہاں کئی اقسام کے کینسر میں پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح 85 فیصد سے زیادہ ہے، جب کہ کم آمدنی والے ممالک میں یہی شرح 45 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینسر صرف صحت کا نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی اور سماجی بحران بھی بن چکا ہے۔ تقریباً نصف مریض اور ان کے خاندان علاج کے دوران شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد علاج کے اخراجات، روزگار کے نقصان اور دیگر مالی دباؤ کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے سروے کے مطابق کینسر سے متاثرہ افراد میں سے آدھے سے زیادہ ذہنی دباؤ یا نفسیاتی بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں، جب کہ دیکھ بھال کرنے والے افراد بھی طویل ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی اور معاشی مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کی صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق ہر سال 8 سے 10 ہزار پاکستانی بچے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جب کہ 30 ہزار سے زائد خواتین کو سالانہ بریسٹ کینسر تشخیص ہوتا ہے، جن میں سے 15 ہزار سے زیادہ خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔
اسی طرح سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے، جس کے سالانہ تقریباً 5 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً 40 فیصد نئے کیسز ایسے خطراتی عوامل سے جڑے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے، جن میں تمباکو نوشی، شراب نوشی، غیر صحت بخش غذا، موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، فضائی آلودگی اور بعض وائرس شامل ہیں۔
اگرچہ تمباکو نوشی میں عالمی سطح پر کچھ کمی آئی ہے اور کئی ممالک نے ایچ پی وی ویکسین کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں شامل کیا ہے، تاہم عالمی سطح پر ایچ پی وی ویکسین کی کوریج اب بھی صرف 31 فیصد ہے، جو مقررہ ہدف سے بہت کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بنیادی تشخیصی سہولیات، ریڈیوتھراپی، سرجری، کینسر کی ادویات اور ابتدائی تشخیص کے مؤثر نظام کی شدید کمی ہے، جس کے باعث لاکھوں مریض بروقت علاج سے محروم رہتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کینسر کی روک تھام، جلد تشخیص، معیاری علاج، ریسرچ، عوامی آگاہی، ویکسینیشن اور مریضوں کے لیے مالی و سماجی تحفظ کو قومی صحت کی پالیسیوں کا بنیادی حصہ بنائیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں کینسر نہ صرف صحت بلکہ عالمی معیشت اور سماجی استحکام کے لیے بھی ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔







