انڈپینڈنٹ عربیہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے منسلک 33 سالہ مریم ابو دقہ اس سال 26 اگست کو جنوبی غزہ میں النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو اسرائیلی حملوں میں پانچ دیگر صحافیوں سمیت جان سے چلی گئی تھیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ مریم کے علاوہ ان حملوں کے نتیجے میں مارے جانے والے دوسرے صحافیوں میں الجزیرہ ٹی وی کے کیمرہ مین محمد سلام، روئٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری، فری لانس صحافی معاذ ابو طہٰ اور برطانوی میڈیا ادارہ مڈل ایسٹ آئی کے احمد ابو عزیز بھی شامل تھے۔
مریم ابو دقہ کو یہ ایوارڈ موت کے بعد میڈیا کی آزادی کے دفاع میں ان کی ہمت اور ثابت قدمی کے اعزاز میں دیا گیا ہے۔
ورلڈ پریس فریڈم ہیرو ایوارڈ ہر سال انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کے اشتراک سے ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کے لیے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایوارڈ کے بیان میں فوٹوگرافر مریم ابو دقہ کی موت پر سوگ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’انہوں نے غزہ میں جاری مظالم کو دستاویزی شکل دینے کے لیے بار بار اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔







