حیوانی بقا کی علم بردار ڈاکٹر جین گوڈال 91 برس کی عمر میں چل بسیں
عالمی شہرت یافتہ ماہرِ حیوانات اور ماحول دوست رہنما ڈیم جین گوڈال 91 برس کی عمر میں وفات پاگئیں ہیں۔ جین گوڈال کے ادارے کے مطابق ان کی موت امریکا کے ایک اسپیکنگ ٹور کے دوران کیلیفورنیا میں ہوئی۔
سن1934 میں لندن میں پیدا ہونے والی جین گوڈال نے نوعمری ہی میں جانوروں سے محبت کو اپنا نصب العین بنالیا تھا۔انھوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ تنزانیہ کے جنگل میں چمپینزیز کے ساتھ گزارا۔ جنگلی چمپینزیز کے سماجی اور خاندانی تعاملات کا 60 سال تک مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور قدیم انسان کی ممکنہ عادات اور خصائل پر تحقیق کی۔
سن1977 میں انہوں نے جین گوڈال انسٹیٹیوٹ قائم کیا تاکہ پرائمیٹس کی فلاح اور ان کے قدرتی مسکن کی حفاظت ممکن بنائی جاسکے۔ یہ ادارہ اب دنیا کے 25 سے زیادہ ممالک میں سرگرم ہے اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر ماحول کے تحفظ کے منصوبے چلا رہا ہے۔
سن1991 میں جین گوڈال نے روٹس اینڈ شُوٹس پروگرام شروع کیا جس نے نوجوانوں کو ماحول اور جانوروں کی فلاح کے منصوبوں میں شامل کیا۔ آج یہ پروگرام تقریباً 100 ممالک میں نوجوانوں کا ایک فعال نیٹ ورک بن چکا ہے۔ جین گوڈال کو2002 میں اقوام متحدہ کی امن کی سفیر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا اور اسی سال اقوام متحدہ کی جانب سے انہیں میسنجر آف پیس کا اعزاز دیا گیا۔
سن2004میں جین گوڈال کو برطانوی شاہی اعزاز ڈیم سے بھی نوازا گیا جبکہ رواں سال سابق امریکی صدرجو بائیڈن نے انہیں امریکا کا سب سے بڑا سول ایوارڈ میڈل آف فریڈم عطا کیا۔ سن2022 میں ان کی خدمات کو منفرد طور پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نام پر ایک باربی ڈول بھی متعارف کرائی گئی۔
انہوں نے اپنی کتاب دی بُک آف ہوپ میں اعتراف کیا کہ کبھی کبھی وہ خود کو ہارنے والا سمجھتی ہیں لیکن امید کی روشنی انہیں پھر سے اٹھنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں لڑتے لڑتے ہی مر جاؤں گی، یہی طے ہے۔ واضع رہے کہ جین گوڈال کے انتقال پر دنیا بھر سے تعزیت اور خراجِ تحسین کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا کہ انہوں نے ہمارے سیارے اور اس کے تمام باسیوں کے لیے انتھک کام کیا اور انسانیت و فطرت کے لیے ایک غیرمعمولی ورثہ چھوڑا ہے۔






