ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ موجودہ صورتحال عالمی وبا کی سطح تک نہیں پہنچی، لیکن پڑوسی ممالک میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس مرتبہ پھیلنے والا وائرس ’بنڈی بگیو وائرس ڈیزیز‘ (بی وی ڈی) ہے، جو ایبولا وائرس کی ایک نایاب قسم تصور کی جاتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے لیے فی الحال نہ کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی مؤثر علاج موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق 300 سے زائد مشتبہ کیسز میں سے تقریباً تمام کیسز جمہوریہ کانگو میں سامنے آئے ہیں، جبکہ یوگنڈا میں بھی دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک متاثرہ شخص ہلاک ہو چکا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اصل متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ابتدائی ٹیسٹوں میں مثبت کیسز کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے اور نئے مشتبہ مریض مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے، جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں، آلودہ اشیا یا مریض کی لاش کے ساتھ براہِ راست رابطے سے منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری کی عام علامات میں تیز بخار، جسم میں درد، قے اور اسہال شامل ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے متاثرہ ممالک کو ہدایت کی ہے کہ مریضوں کو فوری طور پر الگ تھلگ کیا جائے، سرحدی نگرانی سخت بنائی جائے اور ہنگامی طبی اقدامات فوری فعال کیے جائیں۔ تاہم ادارے نے سرحدیں بند کرنے یا سفری و تجارتی پابندیاں عائد کرنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔







