یہ ٹرینڈ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا اور صارفین کی پے در پے شمولیت کے بعد سوشل میڈیا پر مزاحیہ پوسٹس بھی سامنے آنے لگیں کہ ’کوئی رہ تو نہیں گیا؟‘
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے اس ٹرینڈ کا حصہ بننے والوں میں پہل ماہرہ خان کے میڈیا پلیٹ فارم ’میشن‘ نے کی، جس نے ماورا حسین، ماہرہ خان، عائزہ خان، انمول بلوچ، صنم سعید، عینا آصف اور زارا نور عباس کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کیں۔
پیج کی جانب سے تصاویر کے ساتھ لکھا گیا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو ایک مختلف دور کی ہیروئنز کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
تاہم پوسٹ پر بعض صارفین نے اے آئی کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا ان اداکاراؤں نے اپنی تصاویر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی یا نہیں۔
دوسری جانب اداکارہ صبور علی اور اداکار یاسر حسین سمیت متعدد شوبز شخصیات اور انٹرٹینمنٹ پیجز نے بھی انسٹاگرام پر اے آئی سے تیار کردہ اپنی تصاویر شیئر کیں۔
اے آئی ٹرینڈ نے پرائیویسی سے متعلق بحث چھیڑ دی
اے آئی کے ذریعے ماضی کی یاد تازہ کرنے والے اس ٹرینڈ نے جہاں سوشل میڈیا صارفین کو تفریح کا موقع فراہم کیا، وہیں لوگوں کی تصاویر جمع کرنے، انہیں اے آئی ٹولز کے ذریعے استعمال کرنے، رضامندی اور ڈیجیٹل شناخت کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق بحث کو بھی ایک بار پھر نمایاں کردیا۔
متعدد صارفین نے اس ٹرینڈ کے ذریعے اے آئی کے غلط استعمال، ڈیپ فیک، پرائیویسی اور شناخت چوری کے خدشات کا اظہار بھی کیا۔
ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے بھی اس ٹرینڈ پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ لوگ اپنی تصاویر اے آئی ٹولز کو فراہم کرکے مستقبل میں اپنی جعلی تصاویر بنائے جانے کے امکانات بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں صارفین کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا کہ تم سب احمق اپنے چہروں کے ذریعے چیٹ جی پی ٹی کو تربیت دے رہے ہو تاکہ جب کوئی تمہارے ڈیپ فیکس بنانا چاہے تو یہ تمہاری تصاویر کو بہتر انداز میں تیار کرسکے۔ ہر نئے ٹرینڈ کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو۔ بڑی ٹیک کمپنیوں پر بھروسہ کرنا بند کرو۔ مشینوں کو اپنے چہروں کا ڈیٹا فراہم کرنا بند کرو۔
80 کی دہائی کی اے آئی تصاویر کیسے بنوائی جائیں؟
اس ٹرینڈ میں شامل ہونے کے لیے صارفین چیٹ جی پی ٹی پر اپنی ایک تصویر اپلوڈ کرکے اسے 1980 کی دہائی کے انداز میں تبدیل کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔
تصویر اپلوڈ کرنے کے بعد ایسا پرومپٹ دیا جاسکتا ہے کہ ’اس تصویر کو 1980 کی دہائی کی ایک حقیقی فوٹوگراف کی طرح دوبارہ تخلیق کریں۔ میرے چہرے، شناخت، عمر، جلد کے رنگ اور نمایاں خدوخال کو برقرار رکھیں، جب کہ بالوں، لباس، لوازمات اور پس منظر کو 1980 کی دہائی کے فیشن کے مطابق تبدیل کریں۔ تصویر میں اس دور کے نمایاں رنگ، اسٹائل، ٹیکسچر، اینالاگ فلم گرین، ہلکے دھندلے رنگ اور ڈائریکٹ فلیش کا قدرتی اثر شامل کریں تاکہ یہ 1985 کے آس پاس کھینچی گئی حقیقی تصویر محسوس ہو۔‘
اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی اپلوڈ کی گئی تصویر کی بنیاد پر اسی شخص کو 1980 کی دہائی کے انداز میں دکھانے والی تصویر تیار کرسکتا ہے۔
تاہم، ذاتی تصاویر کسی بھی اے آئی ٹول کو فراہم کرنے سے پہلے پرائیویسی، ڈیٹا کے استعمال اور متعلقہ سروس کی شرائط کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے، خاص طور پر اس صورت میں جب تصویر کسی دوسرے شخص کی ہو۔







