محکمہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ضلعی ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں تمام ریسٹورنٹ مالکان کو 15 دن کی مہلت دی گئی ہے جس کے دوران انہیں اپنے کچن اور باربی کیو ایریاز میں جدید سکشن ہُوڈز نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہریوں کی صحت کے تحفظ اور سردیوں میں اسموگ کی شدت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق کوئلے یا کھلی آگ پر گوشت پکانے سے ذائقہ تو بڑھتا ہے مگر صحت کے سنگین خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق زیادہ درجہ حرارت پر گوشت پکانے سے ایسے کیمیائی مادے بنتے ہیں جو آنت، لبلبہ اور پروسٹیٹ کینسر جیسے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب لوگ طویل عرصے تک ایسے طریقے سے پکا ہوا گوشت کھاتے رہتے ہیں۔ تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر باربی کیو کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
گوشت کو کم از کم 30 منٹ کے لیے دہی یا لیموں والے مصالحے میں میرینیٹ کرنا، بار بار پلٹتے رہنا، براہ راست شعلے سے گریز کرنا اور جلے ہوئے حصے کاٹ دینا صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ کم چکنائی والے گوشت جیسے چکن یا مچھلی کا استعمال کرنے اور درمیانی آنچ پر گرل کرنے سے زہریلے مادوں کی مقدار میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے معیار کے ساتھ ساتھ پکانے کا طریقہ بھی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ بھاپ میں یا ہلکی آنچ پر تیار کردہ کھانے زیادہ محفوظ اور جسم کے لیے فائدہ مند ہیں۔
حکومت پنجاب کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف عوام کی صحت کا تحفظ ممکن ہو گا بلکہ فضا کی صفائی اور اسموگ میں کمی کے لیے بھی یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔






