مفتی قوی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران انڈین اداکاراؤں سے اپنے مبینہ تعلقات اور بولی وڈ سے روابط کے حوالے سے حیران کن بیانات دیے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ جوانی میں نہایت خوبصورت تھے اور انہیں برسوں تک سیٹھ شاہد کے نام سے پکارا جاتا تھا، اس دور میں ان کے دبئی، انڈین  کاروباری شخصیات اور متعدد علما سے قریبی تعلقات تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا انڈیا آنا جانا لگا رہتا تھا اور وہاں جانے کے بعد ان کی خواہشات بھی جاگ اٹھتی تھیں۔ ان کے مطابق وہاں کے دوست ان سے پوچھتے تھے کہ کون چاہیے؟

مفتی قوی نے دعویٰ کیا کہ کرینہ کپور کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات 1996 میں ہوئی، جب اداکارہ کی عمر تقریباً 21 سے 23 برس کے درمیان تھی اور تین سال بعد یعنی 1999 تک دونوں کے درمیان گہرے تعلقات استوار ہو چکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ہندو خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا کرینہ کپور سے نکاح ہوا۔

ان کے مطابق کرینہ کپور پاکستان کی بھابھی بھی رہی ہیں، کیوں کہ وہ ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے کرینہ کپور ان کے سیٹھ شاہد والے نام اور شخصیت سے متاثر ہوئی ہوں، اور اس دور میں کرینہ کپور اتنی بڑی اسٹار بھی نہیں بنی تھیں، اس لیے نکاح ممکن ہوا۔

مفتی قوی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب کرینہ کپور کی شادی سیف علی خان سے ہوئی تو انڈین علما نے اس نکاح کو حرام کہا، لیکن انہوں نے اس نکاح کو حلال قرار دیا، کیوں کہ کرینہ کپور پہلے ان کے نکاح میں رہ چکی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرینہ کے ساتھ اپنے نکاح کی وجہ سے انہوں نے سیف علی خان اور کرینہ کی شادی کی بھرپور حمایت کی۔

انہوں نے مذاق یا سنجیدگی کے امتزاج میں یہ بھی کہا کہ اگر ایشوریا رائے کی جانب سے نکاح کا پیغام آیا تو وہ تیار ہیں، کیوں کہ وہ انہیں ہمیشہ پسند رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے سنگین، حیران کن اور غیر معمولی دعوے کرنے کے باوجود مفتی قوی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ مبینہ طور پر ان کا کرینہ کپور سے نکاح کب ختم ہوا اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔