نادیہ افگن جانوروں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان میں توانا آوازوں میں شمار ہوتی ہیں اور وہ اکثر آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں جانوروں پر ظلم کو معمول بنا دیا گیا ہے، جس کے منفی اثرات بالخصوص بچوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ افگن نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں کتوں کو اجتماعی طور پر مارنے کو معمول سمجھا جاتا ہے، جب کہ بچوں کو بھی نوآبادیاتی سوچ کے تحت جانوروں سے خوفزدہ ہونا سکھایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں بچوں کو صرف ان چیزوں سے محبت کرنا سکھائی جاتی ہے جو خوبصورت اور اچھی نظر آئیں، جب کہ کتوں کے بارے میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ گندے ہوتے ہیں اور کاٹتے ہیں، اس لیے بچپن ہی سے ان سے ڈرنا سکھایا جاتا ہے۔
پوڈکاسٹ کی میزبان ہما حق، جو ’جاندار اینیمل ویلفیئر آرگنائزیشن‘ کی بانی بھی ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سڑکوں پر کتوں کی حالت معاشرے کے بے زبان جانوروں کے ساتھ رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
اس پر نادیہ افگن نے کہا کہ یہ وہ سڑکیں نہیں رہیں جہاں وہ خود پلی بڑھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پاکستان کی سڑکیں بچوں، جانوروں، کتوں یا خواتین سمیت کسی کے لیے محفوظ ہیں، حتیٰ کہ ممکن ہے کہ بہت سے مرد بھی خود کو ان سڑکوں پر محفوظ محسوس نہ کرتے ہوں۔
نادیہ افگن نے کہا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر انسان اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس کو داخل ہونے دینا ہے اور کس کو نہیں، لیکن گھر سے باہر کی گلی صرف انسانوں کی ملکیت نہیں بلکہ وہاں رہنے والے جانوروں کا بھی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جانور انسانوں سے بہت پہلے یہاں موجود تھے اور انسانوں نے ان کی زمینوں پر شہر آباد کیے۔ کتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انسان انہیں گھروں میں لائے، پالا اور پھر چھوڑ دیا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان جانوروں کے پاس جانے کے لیے پھر کون سی جگہ رہ جاتی ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان کے پڑوس کے لوگوں نے انہیں اپنے پالتو کتوں، ایک لیبراڈور اور ایک ہسکی، کو باہر نہ لے جانے کا مشورہ دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کتے بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
نادیہ افگن کے مطابق انہوں نے پڑوسیوں کو بتایا کہ ان کے کتے بچوں سمیت کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے اور وہ جب بھی اپنے کتوں کو باہر لے جاتی ہیں تو انہیں بچوں سے ملوانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ جانوروں اور بچوں کے درمیان خوف کے بجائے مانوسیت پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ریبیز کے مسئلے سے نمٹنے کے نام پر کتوں کو مارنا، جب کہ ہر کتا ریبیز کا شکار نہیں ہوتا، بچوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ تشدد ہی ہر مسئلے کا جواب ہے۔
نادیہ افگن نے جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے حکام کی ترجیحات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتوں کو مارنے کے لیے زہر اور گولیوں پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے، لیکن ریبیز کی روک تھام کے لیے ویکسینیشن پروگراموں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر آوارہ کتوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو سڑکیں زیادہ محفوظ ہو سکتی ہیں۔
اداکارہ کے مطابق کتوں کے اپنے علاقے ہوتے ہیں اور وہ اپنے علاقوں کی حفاظت کرتے ہیں، اس لیے اگر آوارہ کتوں کو کھانا اور پانی فراہم کیا جائے تو وہ ان علاقوں میں موجود بچوں کی حفاظت میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سڑکوں پر بچوں کو ہراساں کرنے والے افراد یا نوجوان لڑکوں کو اغوا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی آوارہ کتے ایک قدرتی حفاظتی حصار بن سکتے ہیں۔
اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے نادیہ افگن نے بتایا کہ 1980 کی دہائی میں ان کے گھر میں بھی ایک کتا تھا جبکہ ان کی والدہ کو جانوروں کو بچانے کا شوق تھا۔ ان کے مطابق یہ محبت انہیں اپنی والدہ سے ملی، جنہوں نے بھی جانوروں سے محبت اپنی والدہ یعنی نادیہ افگن کی نانی سے سیکھی تھی۔
نادیہ افگن نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ جانوروں سے محبت صرف امیر لوگوں کے لیے ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ان کی والدہ کا خاندان امیر نہیں تھا، تاہم ان کی نانی کو ہر قسم کے جانوروں سے محبت تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نو بہن بھائیوں اور متعدد جانوروں کے ساتھ پلی بڑھی تھیں، جن میں بطخیں، مرغیاں، گائے، بھینسیں، بکریاں، کتے، بلیاں اور پرندے شامل تھے اور جانوروں سے محبت کا یہی رویہ بعد میں ان کی والدہ نے اپنی اولاد میں بھی منتقل کیا۔







