ترکی میں فلمایا گیا لازوال عشق پاکستان کا پہلا ڈیٹنگ ریئلٹی شو قرار دیا جا رہا ہے، جس میں چار مرد اور چار خواتین ایک ہی بنگلے میں رہ کر پروگرام کے دوران اپنی پسند کے لائف پارٹنر کا انتخاب کرتے ہیں۔

 عائشہ عمر کے مطابق یہ صرف ایک ’ڈیٹنگ شو‘ نہیں بلکہ تعلقات کی حرکیات پر مبنی ایک ریئلٹی پروگرام ہے، جب کہ شو کو ابتدا ہی سے عوامی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

 سوشل میڈیا صارفین نے پیمرا سے شو پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا، تاہم پیمرا نے وضاحت کی کہ چونکہ یہ شو یوٹیوب پر نشر ہو رہا ہے، اس لیے وہ اس پر پابندی لگانے کے مجاز نہیں۔

 شو کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی، جس پر عدالت نے فریقین سے جواب طلب کیا ہے، مگر تاحال پابندی عائد نہیں کی گئی اور شو بدستور یوٹیوب پر نشر ہو رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں عائشہ عمر نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے شو کے بارے میں اہم وضاحتیں پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن نہیں بلکہ ایک ترک پروڈکشن ہاؤس کا تیار کردہ پروگرام ہے، جسے اردو بولنے اور سمجھنے والے عالمی ناظرین کے لیے بنایا گیا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ اس شو میں کسی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس نے حصہ نہیں لیا اور نہ ہی یہ کسی پاکستانی ٹی وی چینل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

عائشہ عمر نے تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شو میں خواتین اور مرد شرکا کے لیے علیحدہ سونے کے کمرے اور ڈریسنگ رومز موجود ہیں، جب کہ مشترکہ لاؤنج، کیچن، پول سائیڈ اور دیگر مقامات پر وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، جیسے دیگر رئیلٹی پروگراموں میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرکا گروپ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، کھیل کھیلتے ہیں، لڑتے ہیں، روتے ہیں، ہنستے ہیں اور یہ سیکھتے ہیں کہ تعلقات میں ذمہ داری اور احتساب کیسے نبھانا چاہیے۔