اس رپورٹ میں ہم ان ممالک کا ایک جائزہ لیں گے جہاں سوشل میڈیا پر عمر کو مدنظر رکھ کر پابندی عائد کی گئی ہے۔
Spain will ban access to social media for minors under 16 and platforms will be required to implement age verification systems, Prime Minister Pedro Sanchez said as he announced several measures to guarantee a safe digital environment https://t.co/f50UI4ghcX pic.twitter.com/qHIcZLYKzK
— Reuters (@Reuters) February 3, 2026
آسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں بھی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خواتین پر تشدد کے خلاف ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔ جب کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اے آئی بوٹس کے استعمال کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔
چین میں بھی سائبر سپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔
ڈنمارک نے نومبر میں اعلان کیا کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، تاہم والدین کی اجازت سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو محدود رسائی دی جا سکے گی۔
First Australia, then Spain, and now more countries are considering banning social media for young people.
— Proton (@ProtonPrivacy) February 9, 2026
The goal is to protect kids, but everyone is affected. Age and identity checks for all, and many aren’t happy.
If you had to protect kids online, how would you do it? pic.twitter.com/1hVq29ZDgB
فرانس کی قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک بل منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل کو سینیٹ اور پھر نچلے ایوان سے حتمی منظوری درکار ہے۔
جرمنی میں 13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔
یونان بھی اسی طرح کے اقدامات کے قریب ہے اور فروری کے اوائل میں ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے اعلان کے بہت قریب ہے۔
انڈیا میں چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’شکاری‘ قرار دیتے ہوئے عمر کی پابندیوں کی سفارش کی، جب کہ ریاست گوا نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر پابندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔
اٹلی میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے، جب کہ اس سے زیادہ عمر کے لیے اجازت ضروری نہیں۔ملائیشیا بھی 2026 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے۔
Spain plans to ban access to social media for children under the age of 16, joining France and Australia in attempting to curb the potentially harmful impact of online content on young people. https://t.co/6ECTZTdWxG pic.twitter.com/0uajmHs5D1
— Financial Times (@FT) February 3, 2026
ناروے کی حکومت نے اکتوبر 2024 میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 15 سال کی جائے، جبکہ حکومت 15 سال کی مکمل کم از کم حد مقرر کرنے کے قانون پر بھی کام کر رہی ہے۔
سلووینیا بھی قانون تیار کر رہا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکا جائے گا، نائب وزیراعظم میٹیج آرکون نے 6 فروری کو بتایا۔
سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانے ہوں گے، تاہم اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔
امریکا میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے سے روکا گیا ہے۔ کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت لازمی قرار دی ہے، تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
Denmark has announced a new plan to restrict social media use for anyone under 15-years-old, though in some cases parents can allow their children access from age 13. The reforms come amid concerns around harmful content. pic.twitter.com/W5OkMxbfGP
— Al Jazeera English (@AJEnglish) December 11, 2025
ادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نومبر میں ایک قرارداد منظورکر چکی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی، جب کہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر 13 سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔






