سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں انڈیا کے شہر پریاگ راج سے تعلق رکھنے والے مسلم نوجوان سُفیان اللہ آبادی کو مدینہ منورہ میں ہندو مذہبی پیشوا پریم نند مہاراج کے لیے دعا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سُفیان نے گنبدِ خضرا کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ پریم نند مہاراج ایک اچھے انسان ہیں اور ان کی بیماری کی خبر سن کر وہ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پریاگ راج سے تعلق رکھتے ہیں جو گنگا یمنا کے سنگم کی سرزمین ہے اور ان کا ماننا ہے کہ چاہے کوئی ہندو ہو یا مسلمان اچھا انسان ہونا سب سے ضروری ہے۔
یہ ویڈیو منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر سُفیان کی تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ صارفین نے انہیں انسانیت کا علمبردار قرار دیتے ہوئے امن اور بھائی چارے کی دعا کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ایسے نوجوان ہی ملک میں ہم آہنگی کے سفیر ہیں۔
آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے بھی سُفیان کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدینہ شریف سے ہندو پیشوا کے لیے دعا کرنا اسلام کی رواداری اور انسانیت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام برداشت اور محبت کا دین ہے اور وہ خود بھی پریم نند مہاراج کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
پریم نند مہاراج جن کا اصل نام انیرودھ کمار پانڈے ہے کانپور کے ایک برہمن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے تیرہ برس کی عمر میں روحانی تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر چھوڑا۔ ان کی تعلیمات محبت عاجزی اور انسانیت پر مبنی ہیں۔ ویرات کوہلی اور انوشکا شرما سمیت کئی مشہور شخصیات ان کے آشرم وریندون کا دورہ کر چکی ہیں۔






