سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ دریافت برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ساتھ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے پہلے سیزن کی تکمیل کے دوران سامنے آئی۔

برآمد ہونے والے نوادرات میں مٹی کے برتن، شیشے اور پتھروں کے ٹکڑے، صدف، ہاتھ سے تیار کردہ اشیاء، زیورات، موتیوں اور دھات سے بنی اشیاء شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اشیا اُس دور کی روزمرہ زندگی اور تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔

کھدائی کے دوران چھ قدیم بھٹیاں بھی دریافت ہوئیں جنہیں مٹی کے برتن بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جب کہ ایک پانی کی نالی بھی ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ حجاج اور مسافروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

مزید برآں 13 قدیم کتبے بھی دریافت ہوئے ہیں جو اموی اور عباسی ادوار سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس مقام کی تاریخی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مختلف علاقوں جیسے بلادِ شام، مصر اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے نوادرات کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس راستے سے دنیا بھر سے آنے والے حجاج گزرتے تھے۔

میقات الجحفہ، جو مکہ مکرمہ سے تقریباً 187 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، ابتدائی اسلامی دور سے ایک اہم حج اسٹیشن کے طور پر جانا جاتا ہے۔

تاریخی حوالوں کے مطابق یہ مقام دوسری صدی ہجری میں اپنے عروج پر تھا جہاں حجاج کے لیے پانی، بازار اور دیگر سہولیات موجود تھیں۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ حج ہجرت روٹ پر واقع تاریخی مقامات کی دستاویز بندی اور تحقیق کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسلامی تہذیب کے اہم ورثے کو محفوظ کرنا ہے۔