سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر وائرل ویڈیو میں انڈین گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے فلم ‘سردار جی تھری’ کی ریلیز کے موقع پر پیدا ہونے والے تنازع پر پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی دعا کرتے تھے اور اب بھی کہ پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔
دلجیت دوسانجھ کا کہنا تھا کہ ان کی فلم فروری میں حملے سے پہلے بنی تھی مگر کرکٹ میچ تو اب ہو رہے ہیں۔
کوالالمپور میں ایک میوزک کنسرٹ کے دوران دلجیت دوسانجھ نے جب انڈین جھنڈا دیکھا تو کہا کہ یہ ان کے ملک کا جھنڈا ہے، انہوں نے شائقین سے وقت مانگتے ہوئے سردار جی تھری کے تنازع پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی فلم سردار جی تھری فروری میں بن گئی تھی، تب بھی انڈیا پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ ہو رہے تھے، لیکن پہلگام واقعے کے بعد صرف ان کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی دعا کرتے تھے اور اب بھی دعا کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن ایک فرق صرف اتنا ہے کہ میری فلم حملے سے پہلے مکمل ہوئی تھی، جب کہ میچز حملے کے بعد بھی جاری ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا فلم کی ریلیز کے وقت انہیں غدار کہا گیا، ان کے پاس وضاحتیں تھیں، جواب بھی تھے، لیکن انہوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں : صائمہ قریشی کا مشورہ: ‘بیوی کو اعتماد میں لے کر دوسری شادی کریں’
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایک پنجابی سردار کبھی غدار نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں دلجیت کو ہانیہ عامر کے ساتھ فلم میں کام کرنے پر انڈیا میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تناظر میں فلم کو انڈیا کے بجائے دنیا کے دیگر ممالک میں ریلیز کیا گیا تھا۔

انڈین فلمی حلقوں کی جانب سے دلجیت پر پابندی لگانے اور یہاں تک کہ ان کی انڈین شہریت منسوخ کرنے کی بھی درخواست دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ رواں سال 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک دہشت گرد حملے میں 26 انڈین شہری جاں بحق ہوئے تھے، انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا جب کہ پاکستان ان الزامات کی بارہا تردید کر چکا ہے۔







