14 مئی 1948 کو برطانوی انتداب کے خاتمے کے بعد صہیونی قیادت نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا، جس کے فوراً بعد پہلی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوگئی۔

فلسطینی مؤقف کے مطابق اسی دوران لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر دیے گئے، جسے وہ  نکبہ  کہتے ہیں۔

تاریخی ریکارڈز کے مطابق 1947 سے 1949 کے درمیان کم از کم سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، جب کہ صہیونی افواج نے تاریخی فلسطین کے تقریباً 78 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا۔ باقی رہ جانے والا علاقہ بعد میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کی صورت میں تقسیم ہوا۔

اس عرصے کے دوران سینکڑوں فلسطینی دیہات تباہ کیے گئے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 530 دیہات اور قصبے مٹا دیے گئے، جب کہ ہزاروں فلسطینی مارے گئے۔

فلسطینی تاریخ میں دیر یاسین کا قتلِ عام خاص طور پر نمایاں سمجھا جاتا ہے، جہاں اپریل 1948 میں 100 سے زائد فلسطینی مرد، خواتین اور بچوں کو قتل کیا گیا۔

آج بھی لاکھوں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60 لاکھ فلسطینی مہاجرین فلسطین، اردن، لبنان، شام اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔

مزید پڑھیں؛ آئی ایم ایف کی نئی پالیسی، پاکستان کے لیے نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس مقرر کر دیے

بین الاقوامی قوانین کے مطابق پناہ گزینوں کو اپنے گھروں اور جائیدادوں میں واپس جانے کا حق حاصل ہے، تاہم فلسطینیوں کی بڑی تعداد اب بھی واپسی کے حق کے حصول کی منتظر ہے۔

یومِ نکبہ کے موقع پر دنیا بھر میں فلسطینی اور ان کے حامی ریلیاں، تقریبات اور احتجاج منعقد کرتے ہیں تاکہ فلسطینی تاریخ، بے دخلی اور حقِ واپسی کے مطالبے کو اجاگر کیا جا سکے۔