دی نیویارک ٹائمز کے مطابق ہر سال تقریباً 69 دن تک سورج غروب نہیں ہوتا۔ مسلسل روشنی اس جزیرے کو ایک ایسے مقام میں بدل دیتی ہے جہاں دن اور رات کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہاں کے 300 باسیوں نے اپنی روزمرہ زندگی اسی نہ ختم ہونے والی روشنی سے ہم آہنگ کر لی ہے۔ اس جگہ وقت ایک اصول نہیں، صرف ایک خیال ہے۔
مزید یہ کہ دکانیں تب کھلتی ہیں جب دکاندار چاہیں۔ لوگ کھاتے ہیں جب بھوک دستک دے اور سوتے ہیں جب آنکھیں بوجھل ہو جائیں۔ مقامی لوگ مسکرا کر کہتے ہیں، سورج ہماری ساری خبریں خود دے دیتا ہے۔
کھیل رات کے دو یا تین بجے شروع ہوتے ہیں، مچھلی پکڑنے کے سفر تب نکلتے ہیں جب سمندر مہربان لگے، اور لوگ روشنی میں یوں گھومتے ہیں جیسے دنیا کی دوڑ دھوپ ان کے لیے بنی ہی نہ ہو۔
سیاح اکثر دن اور رات کے فرق میں الجھ جاتے ہیں مگر مقامی لوگ ہنسی میں کہہ دیتے ہیں یہاں وقت صرف مہمانوں کے لیے اہم ہے۔
واضع رہے کہ یہ جزیرہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جہاں زندگی کی رفتار نرم، قدرتی اور بے فکری سے بھری ہوتی ہے۔ جہاں وقت دوڑ نہیں لگاتا، بس خاموشی سے ساتھ چلتا ہے۔






