محققین نے 27 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا جن میں مجموعی طور پر 1,028 ایسے بچے شامل تھے جو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کا شکار تھے۔ ان بچوں کو بے ترتیب طریقے سے مختلف غذائی سپلیمنٹس جیسے وٹامنز یا اومیگا تھری دیے گئے یا پھر انہیں پلیسبو (فرضی دوا) دی گئی۔

تحقیق کے مطابق اومیگا تھری اور وٹامن سپلیمنٹس پلیسبو کے مقابلے میں مختلف علامات، افعال اور طبی پہلوؤں میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔ مختلف مطالعات میں بہتری کی نوعیت مختلف رہی، تاہم ان میں زبان اور سماجی مہارتوں میں اضافہ، بار بار دہرائے جانے والے رویوں میں کمی، توجہ میں بہتری، چڑچڑاپن اور رویے کے مسائل میں کمی، نیز نیند اور ابلاغ میں بہتری شامل ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ فراگواس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کچھ غذائی مداخلتیں آٹزم سے متعلق مخصوص مسائل کے طبی انتظام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ تجزیہ کنٹرولڈ تجربات پر مبنی تھا، جو طبی تحقیق میں سب سے معتبر طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن مختلف مطالعات میں استعمال ہونے والے سپلیمنٹس اور نتائج ناپنے کے طریقے مختلف تھے، اس لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون سا سپلیمنٹ یا کتنی مقدار بہترین ہے۔

ڈاکٹر فراگواس کے مطابق آٹزم میں غذائی مداخلت کے مؤثر ہونے کے بنیادی اسباب ابھی واضح نہیں ہیں اور موجودہ تحقیق اس حوالے سے حتمی نتیجہ اخذ نہیں کرتی۔

امریکی ادارہ برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول (CDC) کے مطابق تقریباً ہر 59 میں سے ایک بچہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کا شکار ہوتا ہے، اور یہ لڑکوں میں لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جاتا ہے۔

آٹزم کی ابتدائی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، جن میں بار بار حرکات (جیسے ہاتھ ہلانا یا جسم کو جھلانا)، معمولات میں تبدیلی کی شدید مزاحمت، اور بعض اوقات جارحیت یا خود کو نقصان پہنچانے والا رویہ شامل ہیں۔ رویہ جاتی، تعلیمی، اور اسپیچ تھراپی بعض بچوں میں علامات کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

سی ڈی سی کے مطابق آٹزم کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، تاہم کچھ ادویات بچوں میں توجہ کی کمی، حد سے زیادہ سرگرمی، ڈپریشن یا دوروں جیسی علامات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

کچھ معالجین آٹزم کے شکار بچوں کے لیے خصوصی غذا تجویز کرتے ہیں، لیکن سائنسی طور پر ایسا کوئی طریقہ ثابت نہیں ہوا جو تمام بچوں کے لیے یکساں طور پر مؤثر ہو۔

مزید یہ کہ آٹزم کے شکار بچوں کو کھانے سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، جیسے ذائقے، بو، رنگ یا بناوٹ کے حوالے سے حساسیت، محدود خوراک کا استعمال، یا کھانے کے دوران توجہ برقرار رکھنے میں مشکل۔ بعض بچوں کو قبض یا ادویات کے باعث بھوک میں کمی جیسے مسائل بھی پیش آ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ  آٹزم کے شکار بچوں کو کسی بھی خاص غذا پر ڈالنے سے پہلے رجسٹرڈ ڈائٹیشن سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں مناسب غذائیت اور کیلوریز مل سکیں۔

اگرچہ موجودہ تحقیق میں وٹامنز اور اومیگا تھری سپلیمنٹس کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، تاہم ڈاکٹر فراگواس کے مطابق ابھی والدین کو یہ مشورہ دینا قبل از وقت ہے کہ وہ بچوں کو باقاعدگی سے یہ سپلیمنٹس دینا شروع کر دیں۔