حکومت پاکستان نے 2015 میں سگریٹ کے پیکٹس پر خوفناک تصاویر شائع کرنا بھی لازم قرار دیا تھا تاکہ تمباکونوشی کے نقصانات سے سگریٹ کے استعمال کرنے والوں کو آگاہ کیا جا سکے۔
خبر رساں ادارے آزاد اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یومیہ 460 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے زندگیاں گنوا رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے عادی ہیں، جن میں سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد سیگریٹ کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ اورباقی افراد تمباکو نوشی کے لئے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔
حقہ اور بیڑی تو تمباکو نوشی کے پرانے طریقے ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ویپنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس کا استعمال آج کل کی نوجوان نسل اور خاص کر شہری علاقوں میں بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔
ویپنگ ایک ایسا فعل ہے جس میں نکوٹین یا دیگر محلولات کو بخارات کی شکل میں ای سگریٹ یا الیکڑانک سگریٹ کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، اب سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا یہ جدید طریقہ روایتی طریقوں کی طرح ہی خطرناک ہے یا یہ سگریٹ نوشی سے محفوظ ہے؟ کیا ویپنگ کو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور ویپنگ انسانی صحت پر کس طرح کے اثرات مرتب کرتی ہے؟
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک ماہ تک تحقق کی گئی جس میں 114 سگریٹ نوشوں نے حصہ لیا، تحقیق کے نتائج کے مطابق ویپنگ سے دل کے دورے اور فالج کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پر صحت کے لئے محفوظ نہیں ہے، سگریٹ نوشی کے تمام طریقوں کو ترک کرنا ہی صحت کے لئے محفوظ ہے۔
سگریٹ کے دھوئیں میں موجود کیمیائی مادے خون میں شامل ہو کر شریانوں سے گزرتے وقت چربی کے ساتھ چپک جاتے ہیں جس سے شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، شریانوں کی پھیلنے کی صلاحیت سے ہی ان کی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ برٹش جنرل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق شریانوں کے پھیلنے اور ہارٹ اٹیک کے طویل مدتی خطرات کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا ہے، صحت مند اور سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کا سکور 7.7 فیصد، سگریٹ نوشی کرنے والوں کا سکور 5.5 فیصد جبکہ ویپنگ کرنے والوں کا سکور 6.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق ویپنگ کے بہت سے نقصانات ہیں، ای سگریٹ میں موجود نکوٹین دماغی نشو و نما پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو کہ لت کا باعث بھی بن سکتی ہے اس کے محلول میں موجود کیمیائی مادے پھیپھڑوں اور دل کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔






