حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا فارما سیکٹر برسوں سے ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کر رہا تھا: قیمتوں پر حکومتی کنٹرول۔ حکومت دوائیوں کی قیمتیں طے کرتی تھی اور اضافے کی اجازت محدود تھی، جب کہ دوسری طرف اخراجات عالمی مارکیٹ سے جڑے ہوئے تھے۔
یہ اخراجات کئی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، جیسے کہ روپے کی قدر میں کمی، بلند شرح سود، توانائی کے اخراجات اور عالمی فریٹ چارجز ۔
اسی عدم توازن کی وجہ سے نہ صرف کمپنیوں کو نقصان ہوتا تھا بلکہ مارکیٹ میں ادویات کی قلت بھی دیکھنے میں آتی تھی۔
یہ صورتحال فروری 2024 میں بدل گئی، جب حکومت نے فارما سیکٹر میں پرائس ڈی ریگولیشن کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد ضروری ادویات کی قیمتوں میں اوسطاً 32 فیصد اضافہ ہوا۔
لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ منافع میں 78 فیصد اضافے کے مقابلے میں مجموعی سیلز صرف 14 فیصد بڑھی۔ اس کا مطلب واضح ہے: اصل کھیل کہیں اور ہو رہا تھا۔
اصل کہانی کاسٹ سائیڈ پر ہے۔ 2025 میں مہنگائی میں کمی آئی، شرح سود کم ہوئی اور کمپنیوں کے انٹرسٹ پیمنٹس گھٹ گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ ادویات میں استعمال ہونے والے اہم خام مال، یعنی فعال دواسازی کے اجزاء کی عالمی قیمتیں بھی تقریباً 11 فیصد کم ہو گئیں۔ یوں ایک طرف دوائیوں کی قیمتیں بڑھیں اور دوسری طرف پیداواری لاگت کم ہو گئی۔







