پندرہ روزہ اس ایڈونچر سفر کے دوران بائیکرز نے شمالی پاکستان کے دلکش مناظر، وادیوں اور پہاڑوں کی خوبصورتی کو سراہا۔ قافلے میں شامل سات غیر ملکی خواتین بائیکرز میں دو کینیڈا، تین نیوزی لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک فرانس سے تعلق رکھتی ہیں۔
پاکستانی بائیکرز میں دو خواتین، عنمبر اور عائشہ کے ساتھ پانچ مرد بائیکرز حسن، معین الدین، سجاد، محبوب اور سید اعتزاز شامل ہیں۔
غیر ملکی بائیکرز کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک محفوظ، خوبصورت اور پرامن ملک ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نواز اور دوستانہ ہیں، یہ تجربہ ناقابلِ فراموش رہا۔ دنیا کو پاکستان کا اصل اور خوبصورت چہرہ دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سفر کے تجربات دنیا بھر میں شیئر کریں گی تاکہ پاکستان کی مثبت پہچان اجاگر ہو۔ بائیکرز نے لوئر دیر کے عوام کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور مقامی ثقافت کی تعریف کی۔
غیر ملکی سیاحوں نے کہا کہ پاکستان میں ایڈونچر ٹورزم کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، دنیا کو پاکستان کے خوبصورت پہاڑوں، وادیوں اور ثقافت سے روشناس کرائیں گے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بائیکرز کی آمد سے دیر کی پہچان دنیا بھر میں بڑھے گی۔
بائیکرز ٹیم نے کہا کہ ہم دوبارہ پاکستان آنا چاہیں گے، یہ ملک ہمارے لیے یادگار ثابت ہوا۔ لوئر دیر میں بین الاقوامی بائیکرز کی آمد سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کو نئی توانائی ملی ہے۔







