رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 36 ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو فی کس بنیاد پر اوسطاً 122 کلوگرام سالانہ بنتی ہے۔ یعنی ایک عام پاکستانی اتنی خوراک ضائع کر دیتا ہے جو کسی غریب گھرانے کی کئی ماہ کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔

موازنہ کیا جائے تو انڈیا میں فی کس خوراک کا ضیاع 54 کلوگرام اور چین میں 76 کلوگرام سالانہ ہے، جب کہ پاکستان اس فہرست میں 122 کلوگرام کے ساتھ نمایاں طور پر آگے ہے۔ اس ضیاع کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ چار ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خوراک کے ضیاع کی وجوہات متعدد ہیں، جن میں ناقص سڑکیں، کولڈ اسٹوریج کی کمی، کمزور سپلائی چین اور کٹائی کے بعد دیکھ بھال سے متعلق آگاہی کا فقدان شامل ہے، جس کے باعث بڑی مقدار میں خوراک صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔

تاہم سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شادیوں اور بڑی تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کرنا اور پھر اس کا ضائع ہو جانا ایک عام رجحان ہے، جو مجموعی طور پر خوراک کے ضیاع میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین اسے ایک اخلاقی مسئلہ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ملک کی بڑی آبادی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہو اور اسی وقت اربوں روپے مالیت کی خوراک ضائع ہو رہی ہو، تو یہ صرف پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی رویے کا بھی عکاس ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل ممکن ہے، جس کے لیے سپلائی چین میں بہتری، کولڈ اسٹوریج میں سرمایہ کاری اور خوراک کی مؤثر تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا، جیسے صرف اتنی ہی خوراک خریدی جائے جتنی ضرورت ہو۔

اگرچہ نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی میں اس حوالے سے اقدامات شامل ہیں، تاہم ان پر مؤثر عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، ہر سال لاکھوں ٹن خوراک ضائع ہوتی رہے گی۔