متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کے مطابق بیساکھی اور خالصہ کے 327ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے سلسلے میں انڈیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کو 2800 سے زائد ویزے جاری کیے گئے ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے زائرین کے لیے سیکیورٹی اور مہمان نوازی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب میں ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا۔

اجلاس کی صدارت سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی اور وزیرِ صحت پنجاب و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ انڈین سکھ یاتری 10 اپریل کو واہگہ بارڈر کے راستے لاہور پہنچیں گے۔ یہ میلہ 10 سے 19 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں دنیا بھر سے 26 ہزار سے زائد عازمین کی شرکت متوقع ہے، جب کہ مرکزی تقریب 14 اپریل کو حسن ابدال میں واقع گوردوارہ پنجہ صاحب میں منعقد ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواجہ سلمان رفیق نے سکھ یاتریوں کی سیکیورٹی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تمام ضلعی حکام کو جامع حفاظتی انتظامات اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

ای ٹی پی بی کے ایڈیشنل سیکرٹری (مزارات) ناصر مشتاق نے اجلاس کو بتایا کہ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں رہائش کے لیے آرام دہ قیام، معیاری بستر، صاف پینے کا پانی، ایئر کنڈیشنگ اور گوردواروں و رہائشی مقامات پر مناسب واش رومز کی فراہمی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات اور گرد و نواح میں فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں گے، جن میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں، سخت نگرانی، سی سی ٹی وی کیمروں اور عارضی حفاظتی تنصیبات کا استعمال شامل ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامی افسران کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے واٹس ایپ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے بعد انڈین حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان جانے سے روک دیا تھا، تاہم نومبر میں سکھ برادری کے احتجاج کے بعد انہیں مختلف مذہبی مواقع پر پاکستان آنے کی اجازت دے دی گئی۔

دوسری جانب کرتارپور راہداری، جو گوردوارہ دربار صاحب تک ویزہ فری رسائی فراہم کرتی ہے، مئی 2025 کی کشیدگی کے بعد تاحال بند ہے۔ انڈیا نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا ہے، جب کہ پاکستان نے اسے اپنی جانب سے کھلا رکھا ہے اور انڈیا سے بھی اسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ بیساکھی، جسے ویساکھی بھی کہا جاتا ہے، ہندو مہینے ویساکھ کے پہلے دن منائی جاتی ہے اور یہ فصلِ کٹائی کے موسم کے آغاز کی علامت بھی ہے۔