یہ مقابلہ ہان دریا کے کنارے سیول میٹروپولیٹن حکومت کی جانب سے منعقد کیا گیا، جسے "پاور نیپ کانٹیسٹ" کہا جاتا ہے۔ اس سال یہ ایونٹ تیسری مرتبہ منعقد ہوا، جس میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ شرائط سادہ تھیں: تھکے ہوئے آؤ، اچھا کھانا کھاؤ اور “سلیپنگ بیوٹی” یا “پرنس آف ڈریمز” جیسے لباس میں شرکت کرو۔

شرکاء نے اس موقع کو تخلیقی انداز میں استعمال کیا۔ ایک طالب علم پارک جون سیک روایتی کورین شاہی لباس پہن کر آیا اور کہا کہ وہ "بادشاہ کی طرح سونے" کا تصور پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مطابق وہ عام دنوں میں بھی کم نیند لیتا ہے۔

اسی طرح یو می یون نامی ایک خاتون کوآلا کے لباس میں شریک ہوئیں، جو اس جانور کی طویل نیند کی علامت تھا۔ ان کے مطابق وہ نیند کے مسائل سے دوچار ہیں اور یہ مقابلہ ان کے لیے ایک طرح کی ذہنی سکون کی کوشش تھا۔

مقررہ وقت پر سہ پہر 3 بجے شرکاء نے آئی ماسک پہنے اور ماحول مکمل طور پر خاموش ہو گیا۔ منتظمین دل کی دھڑکن سمیت مختلف علامات کے ذریعے حقیقی آرام کو جانچتے رہے۔

اس مقابلے میں حیران کن طور پر ایک 80 سالہ شخص فاتح قرار پایا، جس نے نوجوانوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے گہری نیند اور سکون کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ سب سے کم نیند لیتے ہیں، جس کی وجہ طویل اوقاتِ کار اور شدید مصروف زندگی ہے۔

شرکاء میں سے ایک ہوانگ دو سیونگ نے بتایا کہ وہ کام اور رات کی شفٹوں کے باعث شدید تھکن کا شکار تھے اور اس مقابلے میں صرف "اپنے آپ کو ری چارج" کرنے آئے تھے۔

یہ منفرد ایونٹ اس پیغام کے ساتھ ختم ہوا کہ آرام کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، اور بعض اوقات سب سے زیادہ مفید کام صرف آنکھیں بند کرنا ہوتا ہے۔